وزارتِ خزانہ کے مطابق، مشکل عالمی معاشی حالات کے باوجود یورو بانڈ کے اجرا نے نہ صرف پاکستان کی معیشت پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی ہے بلکہ اس سے ملک کے سوورین ییلڈ کرو کو بھی استحکام ملا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ میں پاکستان کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یورو بانڈ کے اجرا سے حکومت کو فنڈنگ ذرائع میں تنوع لانے اور مالیاتی حکمت عملی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، جب کہ فنانس ڈویژن اور ڈیبٹ مینجمنٹ ٹیم کی مؤثر حکمت عملی کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

مزید برآں، عالمی مالیاتی منڈیوں سے روابط کو وسعت دینے کے لیے اقدامات جاری ہیں، جن میں جی ایم ٹی این (گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ) اور انٹرنیشنل سکوک پروگرامز شامل ہیں، جب کہ پانڈا بانڈ پروگرام بھی جلد اجرا کے مرحلے میں داخل ہونے کی توقع ہے۔

حکام کے مطابق، معاشی استحکام اور جاری اصلاحات کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کے کھلنے اور عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں کمی جیسے عوامل نے بھی مثبت اثرات مرتب کیے ہیں، جس سے پاکستان کا معاشی آؤٹ لک مستحکم سے مثبت کی جانب بڑھ رہا ہے۔

اس حوالے سے مشیرِ خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ یورو بانڈ کا اجرا سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی اور پاکستان پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔