خرم شہزاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ صرف جون 2026 میں فری لانسرز نے 16 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی برآمدی آمدن حاصل کی، جو جون 2025 کے مقابلے میں 69 فیصد زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران فری لانسرز کی برآمدی آمدن میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مالی سال 2020-21 میں یہ آمدن 39 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھی، جو مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر 1 ارب 75 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ صرف گزشتہ تین برسوں (2024 تا 2026) میں اس شعبے کی برآمدی آمدن میں 212 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مشیر وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان میں اس وقت اندازاً 25 سے 30 لاکھ فری لانسرز کام کر رہے ہیں۔ فی فری لانسر اوسط ماہانہ برآمدی آمدن مالی سال 2020-21 میں 12 ڈالر تھی، جو مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر 53 ڈالر سے تجاوز کر گئی، یعنی تقریباً 4.4 گنا اضافہ ہوا۔
خرم شہزاد نے کہا کہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے ڈیجیٹل ٹیلنٹ کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان فری لانسنگ کے عالمی اشاریے میں 193 ممالک میں 16ویں جبکہ ٹیلنٹ اسکور کے لحاظ سے آٹھویں نمبر پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ، بین الاقوامی ادائیگیوں کے آسان نظام، مسابقتی ٹیکس پالیسی، تیز رفتار براڈ بینڈ اور 5G کی توسیع جیسے اقدامات سے پاکستان میں فری لانسنگ کے شعبے میں مزید ترقی کے روشن امکانات موجود ہیں۔







