نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیرمیری ٹائم افیئرز جنید انور چوہدری نے بتایا کہ چینی کمپنی کوشپ یارڈ کے لیے پورٹ قاسم پر تیار جیٹی دینےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پورٹ قاسم پر سالانہ 6 جہازبنانے کی گنجائش ہوگی اور پاکستان جہاز بنانے کی ادائیگی روپوں میں کرےگا۔
جنید چوہدری نے مزید کہا کہ دوسری شپ یارڈ بنانے کےلیے بھی جگہ کا تعین کیا جارہا ہے۔
یاد رہے کہ چین نے نہ صرف اربوں ڈالر کے ہتھیار پاکستان کو فروخت کیے ہیں بلکہ اس نے بحیرہ عرب تک اپنی رسائی مضبوط بنانے کے لیے 3 ہزار کلومیٹر طویل اقتصادی راہداری (چین کے سنکیانگ سے پاکستان کی گہرے پانیوں والی بندرگاہ گوادر تک) میں بھی بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
یہ منصوبہ صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انفرااسٹرکچر پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد دنیا کے سب سے بڑے توانائی درآمد کنندہ ملک، چین، کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی فراہمی کا ایک ایسا متبادل راستہ بنانا ہے جو ملائیشیا اور انڈونیشیا کے درمیان واقع آبنائے ملاکا کو بائی پاس کر سکے۔
یہ منصوبہ چین کے اثر و رسوخ کو افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا تک بڑھاتا ہے اور میانمار کی فوجی حکومت اور بنگلہ دیش سے خوشگوار تعلقات کے تناظر میں بھارت کے گرد ایک مؤثر جغرافیائی دائرہ قائم کرتا ہے۔
بھارت اس وقت تین مقامی طور پر تیار کردہ جوہری آبدوزوں کے علاوہ تین اقسام کی ڈیزل الیکٹرک اٹیک آبدوزیں بھی چلا رہا ہے جو اس نے گزشتہ دہائیوں میں فرانس، جرمنی اور روس کے اشتراک سے حاصل یا تیار کی ہیں۔
ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ چین کے ساتھ یہ تعاون محض ہارڈ ویئر تک محدود نہیں، یہ ایک مشترکہ اسٹریٹیجک وژن، باہمی اعتماد اور دیرینہ شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آنے والی دہائی میں ہمیں توقع ہے کہ یہ تعلق مزید مضبوط ہوگا جس میں جہاز سازی، تربیت، باہمی ہم آہنگی، تحقیق، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور صنعتی اشتراک کے نئے پہلو شامل ہوں گے۔







