نئے نرخوں کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 316 روپے 15 پیسے، جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کرنے کی مجوزہ پالیسی پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور پیٹرول پمپ مالکان نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے مجوزہ ڈی ریگولیشن پالیسی مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس فیصلے سے آئل ٹینکرز، ترسیل کے نظام اور قیمتوں کے تعین کا موجودہ نظام متاثر ہوگا۔
ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ او ایم سیز کے ساتھ نرخ طے کرنے سے قبل تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے۔
ادھر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام فیول ریٹیل سیکٹر کے کاروباری ماڈل میں ایک بڑی تبدیلی ہے، تاہم حکومت نے اس اہم فیصلے سے قبل متعلقہ فریقین سے مؤثر مشاورت نہیں کی۔
او ایم سیز کے مطابق بیشتر کمپنیاں فوری طور پر یومیہ قیمتوں کے نظام پر عمل درآمد کے لیے تیار نہیں ہیں، جب کہ اس فیصلے سے اسٹاک ویلیوایشن، انوینٹری مینجمنٹ اور کیش فلو جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ اس پالیسی سے ڈیلرز کے مارجن، قیمتوں کے تعین اور ریگولیٹری نظام کو بھی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں بے یقینی اور صارفین میں الجھن پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔






