ایل سی سی آئی کے صدر فہیم الرحمٰن سیگل نے خبردار کیا کہ ایندھن کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے نظام کو متاثر کرے گی بلکہ تجارت، صنعت، زراعت اور مجموعی معاشی سرگرمیوں پر بھی دور رس منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور سپلائی چین میں کسی بھی تعطل سے وہ کاروباری شعبہ شدید مشکلات کا شکار ہو جائے گا جو پہلے ہی متعدد معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

فہیم الرحمٰن سیگل نے زور دیا کہ حکومت اس معاملے کو مذاکرات اور اتفاقِ رائے سے حل کرے تاکہ معاشی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رہے۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں پیٹرول پمپس کی مجوزہ ملک گیر ہڑتال کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جب پیٹرولیم سپلائی چین کا ایک اہم فریق کسی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرے تو ان خدشات کو ادارہ جاتی مشاورت کے ذریعے دور کیا جانا چاہیے۔

ایل سی سی آئی کے صدر کا کہنا تھا کہ پائیدار پالیسی سازی اسی وقت ممکن ہے جب کسی بھی بڑی اصلاحات سے قبل تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لیا جائے۔

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ تعین کرنے کے مجوزہ نظام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو خدشہ ہے کہ اس پالیسی سے صنعت کاروں، تاجروں، برآمد کنندگان، ٹرانسپورٹرز اور ریٹیلرز کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ایندھن کی قیمتیں براہِ راست ٹرانسپورٹ کے اخراجات، پیداواری لاگت، فریٹ چارجز، ترسیلی نظام اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہیں، اس لیے روزانہ قیمتوں میں تبدیلی کاروباری اداروں کے لیے لاگت کا درست اندازہ لگانا، بجٹ بنانا اور تجارتی فیصلے کرنا انتہائی مشکل بنا دے گی۔

فہیم الرحمٰن سیگل نے کہا کہ کاروبار کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے قیمتوں میں استحکام اور پیش گوئی کی صلاحیت ضروری ہے۔ صنعت کار، تاجر، برآمد کنندگان، ٹرانسپورٹرز اور ریٹیلرز اپنی لاگت اور قیمتوں کا تعین معلوم ان پٹ لاگت کی بنیاد پر کرتے ہیں، لیکن روزانہ قیمتوں کے نظام میں اگلے دن ایندھن کی قیمت کا علم نہ ہونے سے کاروباری منصوبہ بندی اور حقیقی لاگت کا تعین انتہائی دشوار ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ مقامی ایندھن کی قیمتوں کو عالمی منڈی سے ہم آہنگ کرنا اور شفافیت بڑھانا اہم مقاصد ہیں، تاہم ان اہداف کو کاروباری شعبے کی عملی ضروریات کے ساتھ متوازن رکھنا بھی ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کے پاس تقریباً 28 روز کے لیے پیٹرولیم ذخائر موجود ہیں تو قیمتوں کے تعین کا ایسا نظام اپنانا چاہیے جو کم از کم اسی مدت تک استحکام فراہم کرے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کا نظام کاروباری اداروں کو بہتر منصوبہ بندی، مؤثر انوینٹری مینجمنٹ اور غیر ضروری مارکیٹ اتار چڑھاؤ سے بچنے میں مدد دے گا۔

ایل سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ کاروباری برادری پہلے ہی مسلسل مہنگائی، بجلی و گیس کے بڑھتے ہوئے نرخوں، زیادہ ٹیکسوں، بلند مالیاتی لاگت اور صارفین کی قوتِ خرید میں کمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ متعدد شعبوں کے لیے منافع برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ معاشی مشکلات اور کاروباری اوقات میں کمی کے باعث حالیہ مہینوں میں تجارتی سرگرمیاں بھی نمایاں طور پر سست پڑ گئی ہیں۔

فہیم الرحمٰن سیگل نے زور دیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین پوری معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے، کیونکہ ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل سے ٹرانسپورٹ، زرعی لاگت، پیداواری اخراجات، اشیائے صرف کی قیمتیں اور مہنگائی براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے نظام میں کسی بھی تبدیلی کو حتمی شکل دینے سے قبل پیٹرولیم ڈیلرز، چیمبرز آف کامرس، تجارتی تنظیموں، ٹرانسپورٹرز اور صنعتی نمائندوں سے جامع مشاورت کی جائے۔