ان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ پیٹرول مہنگا ہوگا یا نہیں۔ دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ پاکستان کروڈ آئل خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے۔

آبنائے ہرمز کے راستے کروڈ آئل عام طور پر چار سے پانچ دن میں پاکستان پہنچ جاتا ہے، تاہم سعودی عرب کے شہر ینبع سے تیل کی فراہمی کی صورت میں اسے پاکستان پہنچنے میں 15 سے 20 روز لگ سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نیوی کے دو جہاز اس وقت آبنائے ہرمز میں موجود ہیں۔ سعودی عرب سے تیل بردار جہاز عمان پہنچے گا، جس کے بعد ریفائنریز کو تیل کی فراہمی میں 15 سے 20 روز لگ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تیل کی درآمد کے لیے جہاز دستیاب نہیں ہیں اور اگر کوئی جہاز مل بھی جائے تو اس کی انشورنس حاصل کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت 78 ڈالر سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر 2022ء کی طرح پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنی ہیں تو اس کا مالی خسارہ کون برداشت کرے گا۔

اجلاس کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کا اعلامیہ جاری ہو چکا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق جاری جنگ کے پاکستان کی معیشت پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر جنگ طویل ہوئی تو بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں ترسیلاتِ زر بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔