کراچی میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مرکزی بینک نے نجی شعبے کی قرضہ جاتی سرگرمیوں، معاشی سرگرمیوں میں تیزی اور برآمدات کو سہارا دینے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے بینکوں کی کیش ریزرو ریکوائرمنٹ (سی آر آر) میں کمی کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے تحت 15 روزہ اوسط کیش ریزرو ریکوائرمنٹ کو 6 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد جب کہ یومیہ کم از کم کیش ریزرو ریکوائرمنٹ کو 4 فیصد سے کم کر کے 3 فیصد کر دیا گیا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ کراچی میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ اس فیصلے کا مقصد بینکوں کے پاس اضافی لیکویڈیٹی پیدا کرنا ہے تاکہ وہ نجی شعبے کو زیادہ قرض فراہم کر سکیں، جس سے معاشی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے خاص طور پر برآمدی شعبے کو فائدہ پہنچے گا، کیونکہ حالیہ مہینوں میں برآمدات میں منفی رجحان دیکھا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک اس فیصلے سے متعلق علیحدہ سرکلر بھی جاری کرے گا۔

جمیل احمد نے کہا کہ جب بینک اسٹیٹ بینک کے پاس زیادہ کیش ریزرو رکھتے ہیں تو ان کی قرض دینے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، جب کہ ریزرو ریکوائرمنٹ میں کمی سے بینکوں کے پاس اضافی فنڈز دستیاب ہوں گے، جو نجی شعبے میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیں گے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے مہنگائی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ افراطِ زر کی مجموعی صورتِ حال اور آؤٹ لک بدستور وہی ہے جو گزشتہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026 اور 2027 میں مہنگائی 5 سے 7 فیصد کی مقررہ حد کے اندر رہنے کی توقع ہے، اگرچہ بعض مہینوں میں یہ عارضی طور پر 7 فیصد سے اوپر جا سکتی ہے، مگر بعد ازاں دوبارہ کم ہو جائے گی۔

کرنٹ اکاؤنٹ کے حوالے سے گورنر نے بتایا کہ اس سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ درآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور پورے سال میں ان میں تقریباً 8 فیصد اضافے کی توقع ہے، جب کہ برآمدات میں 6 فیصد تک کمی کے خدشات ہیں، تاہم ترسیلاتِ زر میں بہتری اور نجی شعبے کی جانب سے آنے والے خالص سرمائے کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ دباؤ میں نہیں آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں: آذربائیجان کی سرکاری تیل کمپنی پاکستان میں تیل و گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار

انہوں نے ملکی معاشی ترقی (جی ڈی پی گروتھ) کے حوالے سے خوش آئند اشارے دیتے ہوئے کہا کہ معاشی سرگرمیاں واضح طور پر بحال ہو چکی ہیں۔ پالیسی ریٹ میں جون 2022 سے کی جانے والی تبدیلیوں کا اثر اب سامنے آنا شروع ہو گیا ہے، کیونکہ مانیٹری پالیسی کے اثرات عام طور پر 6 سے 8 سہ ماہیوں بعد ظاہر ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ درآمدات، برآمدات، سیمنٹ، آٹو موبائل، اسٹیل اور پیٹرولیم مصنوعات سمیت ہائی فریکوئنسی انڈیکیٹرز میں بہتری آ رہی ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ بڑے پیمانے کی صنعت میں اپریل 2024 سے مسلسل بہتری دیکھی جا رہی ہے اور گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران اس شعبے میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ نومبر میں ایل ایس ایم کی گروتھ 10 فیصد سے تجاوز کر گئی جب کہ جولائی سے نومبر تک مجموعی گروتھ 6 فیصد سے زائد رہی، جو گزشتہ سال کی منفی گروتھ کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔

زرعی شعبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ رواں سال فصلوں کی پیداوار بہتر رہنے کی توقع ہے۔ گندم، چاول، مکئی اور کپاس سمیت اہم فصلوں کی پیداوار میں بہتری آ رہی ہے، جس سے زرعی شعبہ بھی معاشی نمو میں مثبت کردار ادا کرے گا۔ صنعت اور خدمات کے شعبوں میں بہتری کے ساتھ مجموعی معیشت میں تیزی آ رہی ہے۔

ان تمام عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے مالی سال کے لیے جی ڈی پی گروتھ کی پیش گوئی میں اضافہ کر دیا ہے۔ گورنر نے کہا کہ پہلے 3.25 سے 4.25 فیصد کی جو پیش گوئی کی گئی تھی، اسے بڑھا کر اب 3.75 سے 4.75 فیصد کر دیا گیا ہے، جو گزشتہ 30 سال کی اوسط معاشی نمو سے بھی زیادہ ہے۔

زرمبادلہ ذخائر کے حوالے سے جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کی بیرونی پوزیشن میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ بیرونی قرضوں کی بھاری ادائیگیوں کے باوجود اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور دسمبر میں یہ 16 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے، جو جولائی میں دیے گئے 15.5 ارب ڈالر کے ہدف سے زیادہ ہیں۔ جون 2026 تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ 2026 کے دوران پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 20 ارب ڈالر سے تجاوز کریں گے، جو ایک بڑی معاشی کامیابی ہو گی۔ اس سے ملک بین الاقوامی معیار کے مطابق کم از کم تین ماہ کی درآمدات کے برابر زرمبادلہ ذخائر رکھنے کا ہدف حاصل کر لے گا، جس سے عالمی مالیاتی اداروں اور ریٹنگ ایجنسیوں کا اعتماد مزید مضبوط ہو گا۔

بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال میں تقریباً 25.7 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے واجب الادا ہیں، جن میں سے تقریباً 12.5 ارب ڈالر رول اوور ہو جائیں گے۔ باقی ادائیگیوں میں سے 5.7 ارب ڈالر پہلے ہی ادا کیے جا چکے ہیں، جب کہ باقی رقوم کی ادائیگی بھی منصوبے کے مطابق کی جائے گی۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، معاشی سرگرمیاں بحال ہو چکی ہیں اور آنے والے مہینوں میں مزید بہتری کی توقع ہے۔ اسٹیٹ بینک مالی استحکام، مہنگائی پر قابو اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اپنی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھے گا۔