حکومت نے گزشتہ چند برسوں کے دوران عوام کو گرین انرجی کی جانب راغب کیا اور سولر نظام کی تنصیب کی حوصلہ افزائی کی، تاہم جیسے ہی تقریباً 2 ہزار 813 میگاواٹ بجلی عوام کی چھتوں پر نصب سولر نظاموں کے ذریعے پیدا ہونے لگی، سرکاری تقسیم کار کمپنیوں کی آمدنی متاثر ہونا شروع ہو گئی۔ اب اسی خسارے کو پورا کرنے کے لیے پالیسی میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔

10 جون کو پیش کیے جانے والے بجٹ سے قبل حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سولر پینلز پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جا رہا۔ اس کے برعکس درآمدی سولر پینلز پر ریگولیٹری ڈیوٹی 10 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دی گئی ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق اصل تبدیلی سولر نظام کے اہم جزو، یعنی سولر اِنورٹرز، پر کی گئی ہے۔ حکومت نے اِنورٹرز پر سیلز ٹیکس 12.5 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں دستیاب مقبول 5 کلوواٹ ماڈلز کی قیمت میں 8 ہزار سے 12 ہزار روپے تک اضافہ ہو گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تقریباً 4 لاکھ 65 ہزار روپے مالیت کے ایک معیاری 5 کلوواٹ سولر نظام میں، جس میں تقریباً 10 سولر پلیٹیں شامل ہوتی ہیں، پینلز کی قیمت میں ہونے والی کمی کا فائدہ مہنگے اِنورٹرز کی وجہ سے تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب حکومت نیٹ میٹرنگ کے نرخوں میں بھی کمی پر غور کر رہی ہے، جس سے صارفین کو قومی گرڈ میں شامل کی جانے والی اضافی بجلی کے عوض کم معاوضہ ملنے کا امکان ہے۔

ماہرین کے مطابق اس پالیسی کے پیچھے دو بڑی وجوہات کارفرما ہو سکتی ہیں۔ پہلی وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تجاویز ہیں، جس نے سولر پینلز، برقی گاڑیوں اور ہائبرڈ گاڑیوں کو نسبتاً لگژری اشیا قرار دیتے ہوئے ان پر جنرل سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی سفارش کی ہے۔

دوسری اہم وجہ وہ رجحان ہے جسے توانائی کے شعبے میں گرڈ سے علیحدگی کہا جاتا ہے۔ ملک بھر میں سولر نظاموں کی بڑھتی تعداد کے باعث صارفین روایتی بجلی کے نظام پر انحصار کم کر رہے ہیں، جس سے سرکاری تقسیم کار کمپنیوں کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ایک طرف مہنگے تھرمل بجلی گھروں کے ساتھ کیے گئے طویل المدتی معاہدوں کو برقرار رکھنا چاہتی ہے، جبکہ دوسری جانب سولر توانائی کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت بھی اس کے لیے ایک چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ حکومت ان اقدامات کو مالیاتی اور توانائی پالیسی کا حصہ قرار دیتی ہے، تاہم ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس سے سولر توانائی کو اپنانے کے عمل میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی اور صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔

اس صورتحال میں بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا مجوزہ سولر ٹیکس اور نئی پابندیاں قومی گرڈ کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں یا پھر یہ صارفین سے اضافی رقم وصول کرنے اور مرکزی بجلی نظام کی اجارہ داری برقرار رکھنے کی ایک نئی کوشش ہے۔