پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کے روز غیر معمولی تیزی دیکھی گئی۔

خبر رساں اشاعتی دارے بزنس ریکارڈر کے مطابق کاروباری سیشن کے آغاز پر ہی کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1900 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور انڈیکس ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 60 ہزار اور بعد ازاں ایک لاکھ 61 ہزار پوائنٹس کی سطح سے تجاوز کر گیا۔

رپورٹ کے مطابق صبح 10 بج کر 15منٹ پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1908 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 61 ہزار 188 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے سیمنٹ، کمرشل بینک، تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، بجلی پیدا کرنے والے اداروں اور ریفائنریز میں بھرپور خریداری دیکھنے میں آئی۔

ماری، حبکو، اے آر ایل، اوجی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل اور پی ایس او کے شیئرز بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔

اس تیزی کی ایک بڑی وجہ جمعرات کو بھی جاری رہنے والا خریداری کا رجحان تھا۔ سرمایہ کاروں میں یہ امید پائی جاتی رہی کہ حکومت سرکلر قرضوں کے مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔ جمعرات کو بھی کے ایس ای 100 انڈیکس 1043 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 59 ہزار دو سو اسی پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔

عالمی سطح پر جمعہ کو ایشیائی مارکیٹوں میں دواسازی کی کمپنیوں کے شیئرز میں کمی دیکھی گئی۔ اس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی تجارتی پالیسیوں کا اعلان تھا۔

Featured image (3) (52)
کاروباری سیشن کے آغاز پر ہی کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1900 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ (تصویر: جیو نیوز)

ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا یکم اکتوبر سے درآمد شدہ برانڈڈ ادویات پر سو فیصد، ہیوی ڈیوٹی ٹرکس پر پچیس فیصد، کچن کیبنٹس پر پچاس فیصد، باتھ روم وینیٹیز پر پچاس فیصد اور نرم فرنیچر پر تیس فیصد محصولات عائد کرے گا۔

اس اعلان کے بعد جاپان کے ٹاپکس دواسازی انڈیکس میں ایک فیصد اور ہانگ کانگ کے انوویٹو ڈرگ انڈیکس میں دو اعشاریہ آٹھ فیصد کمی واقع ہوئی۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف اور ڈی ایچ ایس کے سربراہ آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

واضع رہے کہ وزیراعظم نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کی کوششوں پر امریکی صدر کے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے خاص طور پر اس اقدام کی تعریف کی جس میں ٹرمپ نے نیویارک میں مسلم دنیا کے رہنماؤں کو مدعو کر کے غزہ اور مغربی کنارے میں امن کے قیام پر بات چیت کی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی اصلاحات اور پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رہا تو آئندہ دنوں میں بھی مارکیٹ میں مثبت رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے۔ تاہم عالمی سطح پر سیاسی اور معاشی حالات کے اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔