ایک ہی آمدن — دو مختلف ٹیکسز

لیکن یہ صرف امیروں کی کہانی نہیں۔ اگر آج آپ نے پٹرول ڈلوایا ہے تو 117 روپے  فی لیٹر پیٹرولیم لیوی اور بالواسطہ ٹیکسز کٹے ہوں گے۔  بجلی کا بل آتا ہے اس میں ٹیکس پر ٹیکس ہے۔ موبائل ریچارج کیا — ٹیکس ہے۔ بینک سے پیسے نکالے — ٹیکس ہے۔

ورلڈ بینک نے 2023 کی رپورٹ میں لکھا کہ پاکستان میں غریب عوام اپنی آمدن کے حساب سے پاکستان میں رہنے والے امیر لوگوں سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں۔  کیونکہ بالواسطہ ٹیکس — یعنی وہ ٹیکس جو چیزوں پر لگتا ہے ، آمدن پر نہیں جیساکہ ایک درجن انڈے ایک کلو دودھ ایک لیٹر پٹرول یہ سب پر برابر پڑتا ہے۔ اور جب آپ کی تنخواہ کم ہو تو یہ بوجھ آپ کے لیے زیادہ بھاری ہو جاتا ہے۔

 

اب سوال یہ ہے کہ جب پاکستان میں ٹیکس لینے کی صلاحیت 22 فیصد ہے اور جمع صرف 10 سے 12 فیصد ہو رہا ہے — تو باقی 10 فیصد کہاں جا رہا ہے، کس کی جیب میں ہے، اور کون ہے جو اس نظام کو یہاں تک لے آیا؟ 1980 میں پاکستان اپنی GDP کا 14 فیصد ٹیکس جمع کرتا تھا۔

اور آج ۔۔۔۔۔۔۔ صرف 10 سے 12 فیصد ہے۔  ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی معیشت میں 22 فیصد سے زیادہ ٹیکس لینے کی صلاحیت موجود ہے۔ مطلب پاکستان میں رہنے والے کچھ لوگ مزید ٹکس دے سکتے ہیں لیکن نہیں دے رہے۔

بڑے زمیندار اپنی زرعی آمدن پر نہ ہونے کے برابر ٹیکس دیتے ہیں وہ بھی پرانے زمانوں کے حساب سے کوئی پانچ سو دے رہا ہے تو کوئی ہزار پندرہ سو، اتنا کم کہ لاکھوں روپے کمانے والا بھی بچ نکلتا ہے۔ غیر رسمی معیشت سیاسی تحفظ کی وجہ سے ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ اور بل آتا ہے — تنخواہ دار ملازم کو، فری لانسر کو، چھوٹے کاروبار کو — کیونکہ یہ سب بچارے رجسٹرڈ ہیں اور آسان ہدف ہیں۔

ایک راستہ تھا باہر نکلنے کا۔

پاکستان کے آئی ٹی  سکٹر نے مالی سال 2024-25 میں 78 کروڑ ڈالر کمائے — پچھلے سال سے دوگنے۔  آئی ٹی برآمدات مجموعی طور پر 3.8 ارب ڈالر تک پہنچیں، ایک سال میں 18 فیصد اضافہ۔  اور پاکستان دنیا میں فری لانسنگ میں تیسرے نمبر پر ہے۔ اس شعبے کو بڑھنے کے لیے زمین نہیں چاہیے، فیکٹری نہیں چاہیے — بس ایک پالیسی چاہیے۔

لیکن آئی ٹی کی برآمدات پر جو 0.25 فیصد رعایتی ٹیکس تھا — وہ 30 جون 2026 کو ختم ہو رہا ہے۔ کوئی واضح توسیع نہیں، کوئی متبادل نہیں۔  بھارت نے اسی شعبے سے 224 ارب ڈالر کمائے اور 58 لاکھ لوگوں کو روزگار دیا۔  اور ہم نے 3.8 ارب پر بھی ٹیکس لگانا شروع کر دیا۔

بجٹ 2026-27 آ رہا ہے۔

آئی ایم ایف مزید ٹیکسز کی مانگ کر رہا ہے۔ اور سب جانتے ہیں یہ کہاں سے آئیں گے۔  پٹرول مہنگا ہوگا۔ بجلی مہنگی ہوگی۔ بالواسطہ ٹیکس بڑھیں گے۔

وہی 45 ہزار والا — یا جس کے پاس نوکری بھی نہیں — وہی دے گا۔ کیونکہ بالواسطہ ٹیکس تنخواہ نامہ نہیں دیکھتا۔ سوال یہ نہیں کہ ٹیکس لگے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو پہلے سے نچوڑے جا رہے ہیں ان سے مزید کیوں؟ اور جن کے پاس رعایتیں ہیں، استثنیٰ ہے، سیاسی چھتری ہیں — وہ کب تک بچتے رہیں گے؟

اگر آپ تنخواہ دار ہیں، فری لانسر ہیں، چھوٹا کاروبار چلاتے ہیں — یہ آپ کی بات ہے۔ اسے آگے پہنچائیں۔