پنجاب بار کونسل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رمشا اقبال نے کہا کہ دو روز قبل مومنہ اقبال کے سسرال کے باہر نامعلوم افراد کی گاڑی بھیجی گئی تھی، تاہم حکومتی سیکیورٹی اہلکاروں کے الرٹ ہونے پر وہ فرار ہو گئے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات ان کے گھر کے باہر بھی مشکوک افراد آئے اور انہیں دھمکیاں دی گئیں، جس پر تھانہ چوہنگ میں درخواست جمع کرا دی گئی ہے۔

رمشا اقبال کا کہنا تھا کہ ان کے اور مومنہ اقبال کے خلاف بے بنیاد اور جھوٹے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں اور مختلف مقامات پر جھوٹی درخواستیں بھی دائر کی جا رہی ہیں، تاہم وہ اپنی بہن کے کیسز کا بہادری سے سامنا کریں گی۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کے وکیل میاں علی اشفاق اور رمشا اقبال کے لائسنس معطل کرنے کی درخواست پر پنجاب بار کونسل کی ڈسپلنری کمیٹی نے سماعت کی۔

چیئرمین ڈسپلنری کمیٹی عباس علی چدھڑ کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے دوران کمیٹی نے مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کے وکلا کو کیس سے متعلق میڈیا پر گفتگو کرنے سے روک دیا۔

سماعت کے دوران میاں علی اشفاق سے ان کی بار ایٹ لا کی ڈگری کے بارے میں سوالات کیے گئے اور انہیں ڈگری پیش کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ رمشا اقبال سے آسٹریلیا میں ملازمت اور وکالت سے متعلق بھی وضاحت طلب کی گئی۔

رمشا اقبال نے مؤقف اختیار کیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور اگر ان کی ملازمت سے متعلق کوئی دعویٰ کیا جا رہا ہے تو اس کے ثبوت پیش کیے جائیں۔

چیئرمین ڈسپلنری کمیٹی نے ریمارکس دیے کہ دو نجی افراد کے تنازع کو بعض وکلا نے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔