سنجے دت نے بتایا کہ بابری مسجد واقعے کے بعد ان کے خاندان کو شدید دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق ان پر اسلحہ رکھنے کا الزام لگایا گیا، مگر اس کے کوئی ٹھوس شواہد کبھی پیش نہیں کیے گئے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں آج تک نہیں سمجھ پایا کہ مجھے کیوں جیل بھیج دیا گیا۔ 25 سال بعد عدالت نے خود تسلیم کیا کہ میرا بم بلاسٹ کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

اداکار نے کہا کہ جیل میں گزارا گیا وقت ان کی زندگی کا سخت ترین مگر سیکھنے والا دور ثابت ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے وہاں قانون کی کتابیں پڑھیں، دعا کی اور خود کو مضبوط رکھا۔ میں نے مشکلات کا مقابلہ کرنے کے بجائے انہیں زندگی کا سبق بنایا۔

واضح رہے کہ سنجے دت ان دنوں رنویر سنگھ کے ساتھ اپنی آنے والی متنازع فلم ’دھورندھر‘ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔