سنجے دت نے بتایا کہ بابری مسجد واقعے کے بعد ان کے خاندان کو شدید دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق ان پر اسلحہ رکھنے کا الزام لگایا گیا، مگر اس کے کوئی ٹھوس شواہد کبھی پیش نہیں کیے گئے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں آج تک نہیں سمجھ پایا کہ مجھے کیوں جیل بھیج دیا گیا۔ 25 سال بعد عدالت نے خود تسلیم کیا کہ میرا بم بلاسٹ کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
#SanjayDutt:
— Gulte (@GulteOfficial) July 10, 2025
“I take back with me the passion from Telangana/Telugu cinema... something Bollywood has lost.
Passion for making good films, not just chasing box office numbers.” pic.twitter.com/0Xi6Tgwst6
اداکار نے کہا کہ جیل میں گزارا گیا وقت ان کی زندگی کا سخت ترین مگر سیکھنے والا دور ثابت ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے وہاں قانون کی کتابیں پڑھیں، دعا کی اور خود کو مضبوط رکھا۔ میں نے مشکلات کا مقابلہ کرنے کے بجائے انہیں زندگی کا سبق بنایا۔
واضح رہے کہ سنجے دت ان دنوں رنویر سنگھ کے ساتھ اپنی آنے والی متنازع فلم ’دھورندھر‘ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔







