این ڈی ٹی وی کے مطابق تنازع کی ابتدا اس وقت ہوئی جب مہدی حسن نے امریکہ میں اذان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر چرچ کی گھنٹیاں بج سکتی ہیں تو اذان بھی دی جا سکتی ہے۔ مہدی حسن، زیٹیو (Zeteo) کے ایڈیٹر اِن چیف اور سی ای او ہیں۔ انہوں نے امریکی مسیحیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ اپنے چرچ کی گھنٹیاں بجا سکتے ہیں تو ہم بھی اذان دے سکتے ہیں، ہم بھی اتنے ہی امریکی ہیں جتنے آپ، اور ہم کسی کی بدزبانی برداشت نہیں کریں گے۔‘
اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے برینڈن گل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’ہم یہاں بڑی تعداد میں آ کر امریکی عوامی زندگی کے منظرنامے کو بنیادی طور پر بدل سکتے ہیں۔‘
مہدی حسن نے اس پر جواب دیتے ہوئے برینڈن گل کے خاندانی پس منظر کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’آپ کی اہلیہ انڈین نژاد امریکی ہیں، ایک بھارتی تارکِ وطن کی بیٹی۔
‘My wife is a Christian and doesn’t want to hear your oppressive Muslim prayer calls, either.
— Congressman Brandon Gill (@RepBrandonGill) October 22, 2025
If you want to live in a Muslim country, go back to the UK. https://t.co/LxmBfedAzx
جس پر برینڈن گل نے کہا کہ ’میری بیوی ایک مسیحی ہے اور وہ بھی آپ کی جابرانہ مسلم اذان سننا نہیں چاہتی۔ اگر آپ کو مسلم ملک میں رہنا ہے تو واپس برطانیہ چلے جائیں۔‘
یہ مکالمہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا اور صارفین نے مختلف ردعمل دیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’چرچ کی گھنٹیاں اور اذان، دونوں ہی امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت مذہبی آزادی کے زمرے میں آتی ہیں، بشرطیکہ یہ حکومتی عمل نہ ہوں۔‘ ایک اور صارف نے کہا کہ ’ایسا مسیحی عجیب ہے جو برداشت اور ہمدردی نہ دکھائے، یہ تو مسیحی تعلیمات کے خلاف ہے۔‘ جبکہ ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’اذان کو جابرانہ کہنا دراصل دل میں نفرت کی علامت ہے۔‘
یہ پہلا موقع نہیں جب برینڈن گل کو اپنے بیانات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے قبل انہوں نے نیویارک کے میئر کے امیدوار انڈین نژاد ڈیموکریٹ زہران ممدانی کو اس وقت نشانہ بنایا تھا جب ایک پرانی ویڈیو میں انہیں ہاتھ سے چاول کھاتے دیکھا گیا۔
اس موقع پر برینڈن گل نے تبصرہ کیا تھا کہ ’امریکہ میں مہذب افراد اس طرح نہیں کھاتے، اگر آپ مغربی روایات اپنانے سے انکار کرتے ہیں تو واپس تیسری دنیا چلے جائیں۔‘
یہ بیان بھی سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی وجہ بنا، خاص طور پر اس لیے کہ برینڈن گل کی اہلیہ ڈینیئل ڈی سوزا گل خود انڈین نژاد ہیں اور معروف دائیں بازو کے مبصر دینیش ڈی سوزا کی بیٹی ہیں۔ اس وقت صارفین نے سوزا گل اور ان کے والد کی تصاویر بھی شیئر کی تھیں جن میں وہ ہاتھ سے کھانا کھاتے دکھائی دیتے ہیں۔
بعد میں ڈینیئل ڈی سوزا گل نے انڈین کھانے کی روایات سے خود کو الگ کرتے ہوئے وضاحت دی کہ ’میں نے کبھی ہاتھ سے چاول کھانا نہیں سیکھا، ہمیشہ کانٹے کا استعمال کیا ہے۔ میں امریکہ میں پیدا ہوئی ہوں، ایک مسیحی اور محب وطن امریکی ہوں۔ میرے والد کے رشتہ دار انڈیا میں رہتے ہیں، وہ بھی مسیحی ہیں اور کانٹے ہی استعمال کرتے ہیں۔‘







