ویڈیو اینڈ شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام کی اسٹوری لگاتے ہوئے بلال قریشی نے لکھا کہ مہنگائی کے اس دور میں لوگ کفن اور قبر کے اخراجات بھی اُدھار لے کر پورے کر رہے ہیں، ایسے میں جنازوں پر کھانے پینے کی روایات فضول خرچی معلوم ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ جنازوں کے بعد کھانے پینے کے فضول اخراجات پر پابندی لگائے تاکہ عوام کے مسائل میں کمی آسکے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ اگر حکومت لوگوں کا جینا آسان نہیں بنا سکتی تو کم از کم مرنا تو آسان کرے۔
سوشل میڈیا صارفین نے ان کے بیان پر مخلوط ردعمل دیا۔ کچھ نے ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل واقعی غیر ضروری ہے، جب کہ دیگر کا کہنا تھا کہ بعض لوگ دور دراز علاقوں سے جنازوں میں شرکت کے لیے آتے ہیں، ایسے میں کھانے کا انتظام ضروری ہوتا ہے۔
کچھ صارفین نے مزاحیہ انداز میں تبصرہ کیا کہ اگر جنازوں کے کھانوں پر پابندی لگ گئی تو وہ لوگ کیا کریں گے جو صرف بوٹی والی پلیٹ کے انتظار میں آتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اختتام یا نئی شروعات، عاصم اظہر نے انسٹاگرام پر خدا حافظ کیوں کہا ہے؟
کچھ لوگوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ پڑوسیوں یا رشتہ داروں کو چاہیے کہ وہ دور دراز سے آئے مہمانوں کے کھانے پینے کا انتظام کریں، مزید یہ کہ لوگوں کو چاہیے کہ بے وجہ کھانے پینے کی بجائے مجبوری ہو تبھی رکیں ورنہ تعزیت کرکے جانے کی کریں۔







