دلجیت دوسانجھ نے گفتگو کے دوران کہا،“جہاں ایک دن ہمیں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، آج وہاں سے صرف دو کلومیٹر دور 55 ہزار افراد کے سامنے پرفارم کیا۔”

یہ مختصر جملہ محض ایک جذباتی یاد نہیں بلکہ ایک صدی پرانے تاریخی واقعے کی طرف اشارہ تھا، جس نے جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن، خصوصاً سکھ برادری کی تاریخ پر گہرے اثرات چھوڑے۔

یہ واقعہ 1914 میں پیش آیا تھا، جب ایک جاپانی جہاز “کاماگاٹا مارو” پر سوار 376 مسافر، جن میں اکثریت پنجاب سے تعلق رکھنے والے سکھوں کی تھی، بہتر زندگی اور روزگار کے مواقع کی تلاش میں کینیڈا پہنچے۔ تاہم اُس وقت کی کینیڈین امیگریشن پالیسیوں کے باعث انہیں وینکوور میں اترنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

جہاز تقریباً دو ماہ تک بندرگاہ پر کھڑا رہا، لیکن مسافروں کو داخلے کی اجازت نہ ملی۔ بعد ازاں جہاز کو واپس ہندوستان بھیج دیا گیا۔ جب یہ کولکتہ پہنچا تو برطانوی حکومت نے مسافروں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ یہ افراد آزادی کی تحریک سے وابستہ ہیں۔

مزاحمت کے دوران پولیس اور مسافروں کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس میں کئی افراد مارے گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے برطانوی راج کے خلاف غصے کو مزید بڑھایا اور خاص طور پر پنجاب میں آزادی کی تحریک کو نئی طاقت ملی۔

وقت گزرنے کے ساتھ “کاماگاٹا مارو” کا واقعہ نسلی امتیاز اور امیگریشن ناانصافی کی علامت بن گیا۔ جنوبی ایشیائی کمیونٹی نے کئی دہائیوں تک کینیڈا سے باضابطہ معافی کا مطالبہ کیا، جس کے بعد 2016 میں کینیڈا کے وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے پارلیمنٹ میں اس واقعے پر سرکاری معافی مانگی۔

دلجیت دوسانجھ کے مطابق آج اسی سرزمین پر ہزاروں افراد کے سامنے پرفارم کرنا اس بات کی علامت ہے کہ تاریخ کے زخموں کے باوجود محبت، احترام اور قبولیت کا پیغام آگے بڑھ رہا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین بھی دلجیت کے اس بیان کو صرف ایک جذباتی لمحہ نہیں بلکہ تاریخ، شناخت اور تارکینِ وطن کی جدوجہد سے جڑا ایک طاقتور پیغام قرار دے رہے ہیں۔