غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم کی شمالی امریکا میں افتتاحی ویک اینڈ کمائی 85 سے 100 ملین ڈالر کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جب کہ 73 بین الاقوامی مارکیٹوں سے مزید 105 سے 115 ملین ڈالر آمدنی متوقع ہے۔ اس طرح فلم کی عالمی افتتاحی کمائی 190 سے 215 ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

بعض تجزیاتی اداروں نے اس سے بھی زیادہ کمائی کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلم صرف شمالی امریکا میں ہی 100 سے 120 ملین ڈالر تک کا بزنس کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ اندازے درست ثابت ہوئے تو ’دی اوڈیسی‘ کسی بھی ہالی ووڈ کی تاریخی مہاکاوی فلم کی اب تک کی سب سے بڑی اوپننگ ویک اینڈ کمائی کا ریکارڈ قائم کر دے گی اور ’ڈیون: پارٹ ٹو‘ اور نولان کی ہی 2023 کی بلاک بسٹر فلم ’اوپن ہائیمر‘ کی عالمی اوپننگ کو بھی پیچھے چھوڑ دے گی، جس نے اپنی ریلیز پر شاندار کاروبار کیا تھا۔

فلم کی مقبولیت میں آئی میکس فارمیٹ کا بھی اہم کردار رہا ہے۔ ’دی اوڈیسی‘ مکمل طور پر آئی میکس کیمروں سے فلمائی گئی ہے، جب کہ 70 ایم ایم آئی میکس شوز کے ٹکٹ دنیا کے کئی بڑے شہروں میں ریلیز سے تقریباً ایک سال قبل ہی فروخت ہو چکے تھے۔ یورپ کے چار آئی میکس 70 ایم ایم سینما گھروں میں بھی تمام شوز پہلے ہی ہاؤس فل ہو گئے ہیں۔

اگرچہ فلم کی ریلیز فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل مرحلے کے دوران ہو رہی ہے، تاہم فلمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے باکس آفس پر زیادہ فرق پڑنے کا امکان نہیں، کیونکہ زیادہ تر شائقین پہلے ہی اپنے ٹکٹ بک کرا چکے ہیں۔

قدیم یونانی شاعر ہومر کی شہرۂ آفاق رزمیہ داستان پر مبنی اس فلم میں میٹ ڈیمن مرکزی کردار اوڈیسیئس ادا کر رہے ہیں، جب کہ دیگر نمایاں فنکاروں میں ٹام ہالینڈ، زینڈایا، این ہیتھاوے، رابرٹ پیٹنسن، لوپیتا نیونگو، چارلیز تھیرون، جان برنتھل اور بینی سیفڈی شامل ہیں۔

تقریباً پونے تین گھنٹے دورانیے کی اس فلم پر 250 ملین ڈالر لاگت آئی ہے، جس کے ساتھ یہ کرسٹوفر نولان کے کیریئر کی اب تک کی سب سے مہنگی فلم بن گئی ہے۔

ابتدائی سوشل میڈیا ردِعمل اور میڈیا جائزے مثبت رہے ہیں، جس کے بعد فلم کو ایوارڈز سیزن کی مضبوط امیدوار بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ’دی اوڈیسی‘ کو ’اوپن ہائیمر‘ جیسی عوامی پذیرائی ملی تو یہ 2026 کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں شامل ہو سکتی ہے۔