بالی ووڈ اداکار نصیر الدین شاہ نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ طلبہ کے مطالبات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے اور حکومت کو اس معاملے پر جواب دہ ہونا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کے مستقبل سے جڑا یہ معاملہ شفاف انداز میں حل کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب معروف اداکار پرکاش راج بھی نئی دہلی میں جاری احتجاج میں شریک ہو گئے۔ انہوں نے طلبہ کے دھرنے میں بیٹھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف کی اس جدوجہد میں طلبہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔

ادھر نیٹ امتحان کے مبینہ پرچہ لیک کے خلاف احتجاج مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے باہر مظاہرے کیے اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا، جبکہ پارلیمنٹ کے اندر بھی اس معاملے پر شدید ہنگامہ آرائی کے باعث کارروائی کچھ دیر کے لیے معطل کرنا پڑی۔

گزشتہ ماہ شروع ہونے والا احتجاج اب نئی دہلی سمیت ممبئی، بنگلورو، کولکتہ، گوہاٹی، احمد آباد، جموں، گوا اور تھرواننت پورم سمیت کئی شہروں تک پھیل چکا ہے۔ حالیہ احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جن میں آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا کہنا ہے کہ حکومت نیٹ امتحان، تعلیمی اصلاحات اور طلبہ کے خدشات پر پارلیمنٹ میں بحث کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ تاہم اپوزیشن جماعتیں اور طلبہ تنظیمیں شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: انڈیا میں طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا، اپوزیشن کا وزیر تعلیم سے استعفے کا مطالبہ

سیاسی مبصرین کے مطابق طلبہ تحریک کو بالی ووڈ کی معروف شخصیات کی حمایت ملنے سے یہ معاملہ مزید نمایاں ہو گیا ہے، جبکہ اسے مودی حکومت کو درپیش حالیہ برسوں کے اہم عوامی چیلنجز میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔