یہ صورتحال اس وقت مزید زیرِ بحث آئی جب کالونی نے 51ویں چاپلن ایوارڈ گالا میں شرکت کی، جہاں انہیں ان کے شاندار فلمی کیریئر کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا گیا۔ اسی تقریب کے دوران انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکا کی موجودہ سیاسی فضا اور آزادیٔ اظہار سے متعلق اہم نکات پر روشنی ڈالی۔
کالونی نے اپنی حالیہ اسٹیج پرفارمنس گڈ نائٹ اینڈ گڈ لک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ڈرامہ اس تاریخی دور کی یاد دہانی ہے جب میڈیا اور حکومتی طاقت کے درمیان کشمکش عروج پر تھی، اور آج بھی یہ پیغام اتنا ہی اہم ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کالونی نے کہا کہ فنکاروں کو اپنی رائے کے اظہار کی مکمل آزادی ہونی چاہیے، کیونکہ آزاد سوچ ہی معاشروں کی ترقی کا باعث بنتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ دور میں اختلافِ رائے رکھنے والوں کو سخت القابات دینا ایک خطرناک رجحان ہے جو معاشرتی تقسیم کو بڑھا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صحافت اور سوال اٹھانے کی روایت ان کے خاندان کا حصہ رہی ہے، اور ان کے والد ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ طاقتور حلقوں سے سوال کرنا ایک ذمہ دار معاشرے کی پہچان ہے۔
مزید پڑھیں: مائیکل جیکسن کی زندگی پر مبنی فلم ’مائیکل‘ آج ریلیز ہوگی
ٓدوسری جانب جارج کالونی نے اپنے قریبی دوست اور معروف ٹی وی میزبان جمی کیمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ طنز و مزاح کو سیاسی دباؤ کے ذریعے محدود کرنا درست نہیں۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ABC نیٹ ورک سے مطالبہ کیا تھا کہ جمی کیمل کو ان کے شو سے ہٹا دیا جائے۔
یاد رہے کہ یہ تنازع اس وقت مزید بڑھا جب جمی کیمل کے ایک مزاحیہ جملے کو سیاسی رنگ دے کر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جس میں انہوں نے میلانیا ٹرمپ کے حوالے سے ایک طنزیہ بات کہی تھی۔ کچھ حلقوں نے اسے نامناسب قرار دیا جبکہ دیگر نے اسے محض مزاح کا حصہ قرار دیا۔
اگرچہ انہوں نے واضح کیا کہ وہ امریکی ڈیموکریٹک جماعت کے حامی ہیں، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ کسی بھی حکومت کے تحت میڈیا پر دباؤ ڈالنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ ان کے مطابق آزاد صحافت اور اظہارِ رائے کی آزادی ہی ایک مضبوط اور جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے۔







