عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق کیلیفورنیا کے شہر پاساڈینا میں قائم نائنتھ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے قرار دیا کہ پیراماؤنٹ پکچرز کی فلم میورک، 1983 میں شائع ہونے والے صحافی ایہود یونائے کے مضمون “ٹاپ گنز” سے نمایاں طور پر مشابہت نہیں رکھتی۔ یہ مضمون امریکی بحریہ کے ٹاپ گن فائٹر پائلٹ ٹریننگ اسکول کے بارے میں تھا۔

ایہود یونائے نے 1983 میں اپنے مضمون کے حقوق اصل فلم ٹاپ گن کے لیے پیراماؤنٹ کو دیے تھے اور انہیں فلم میں کریڈٹ بھی دیا گیا تھا۔ تاہم 2020 میں ان کی اہلیہ شوش یونائے اور بیٹے یووال یونائے نے لائسنس ختم کر دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ میورک کی کمائی میں ان کا حق بنتا ہے۔

واضح رہے کہ ٹاپ گن: میورک نے دنیا بھر میں 1.5 ارب ڈالر کا بزنس کیا، جو باکس آفس موجو کے مطابق تاریخ کی 14ویں بڑی کمائی کرنے والی فلم ہے، جب کہ یہ ٹام کروز کے کیریئر کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بھی ہے۔

عدالت میں یونائے خاندان کا مؤقف تھا کہ میورک اور ٹاپ گنز میں کہانی، کردار، مکالمے اور موضوعاتی عناصر یکساں ہیں اور دونوں ہی فائٹر پائلٹس میں “بہترین سے بہترین بننے” کے تصور کو پیش کرتی ہیں۔

تاہم تین رکنی عدالتی بینچ نے کہا کہ میورک میں کئی اہم عناصر ایسے ہیں جو مضمون میں موجود نہیں تھے، جن میں رومانوی کہانی اور ٹام کروز کے کردار کیپٹن پیٹ ‘میورک’ مچل کا نوجوان پائلٹس کو تربیت دینا شامل ہے۔

سرکٹ جج ایرک ملر نے فیصلے میں لکھا کہ

“جو چیز محفوظ (Protected) ہے وہ مشابہ نہیں اور جو مشابہ ہے وہ قانونی طور پر محفوظ نہیں۔”

عدالت نے مزید کہا کہ دونوں کاموں کا موازنہ اس قدر عمومی سطح پر کیا گیا کہ ایسی مشابہت کاپی رائٹ قانون کے تحت تحفظ کے دائرے میں نہیں آتی۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ پیراماؤنٹ پر میورک میں ایہود یونائے کو کریڈٹ دینا لازم نہیں تھا کیونکہ 1983 کا معاہدہ اس فلم پر لاگو نہیں ہوتا۔

یہ فیصلہ لاس اینجلس کی ضلعی عدالت کے جج پرسی اینڈرسن کے اپریل 2024 کے اس فیصلے کو برقرار رکھتا ہے جس میں مقدمہ خارج کر دیا گیا تھا۔

دوسری جانب پیراماؤنٹ کو نیویارک میں ایک اور مقدمے کا سامنا ہے، جہاں اسکرین رائٹر شان گرے کا دعویٰ ہے کہ میورک کے کئی مناظر انہوں نے لکھے تھے اور وہ فلم کی کمائی میں حصہ چاہتے ہیں۔ اس مقدمے میں جیوری کے انتخاب کا عمل 9 مارچ کو شروع ہونا ہے۔