خون عطیہ کرنے سے پہلے عطیہ دینے والے کی طبی تاریخ اور مجموعی صحت کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ خون دینا عطیہ کرنے والے اور مریض، دونوں کے لیے محفوظ ہے۔

کون خون عطیہ کرسکتا ہے؟

خون عطیہ کرنے سے پہلے عام طور پر عطیہ دینے والے کا ہیموگلوبن، بلڈ پریشر، نبض، جسم کا درجہ حرارت اور مجموعی صحت چیک کی جاتی ہے۔ اگر طبی جانچ میں سب کچھ معمول کے مطابق ہو تو ہی خون عطیہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

ایک صحت مند شخص خون عطیہ کرسکتا ہے، تاہم خون عطیہ کرنے کی عمر، وزن اور وقفے سے متعلق شرائط مختلف بلڈ بینکس اور ممالک میں مختلف ہوسکتی ہیں، اس لیے عطیہ دینے سے پہلے متعلقہ بلڈ بینک کی ہدایات ضرور دیکھنی چاہئیں۔

کون کچھ عرصے کے لیے خون عطیہ نہیں کرسکتا؟

جن افراد کا حال ہی میں کوئی آپریشن ہوا ہو، ویکسین یا کوئی طبی ٹیکا لگوایا گیا ہو، حاملہ خواتین یا وہ افراد جو کسی بیماری کے لیے طویل عرصے سے ادویات استعمال کر رہے ہوں، انہیں بعض صورتوں میں کچھ عرصے کے لیے خون عطیہ کرنے سے روکا جاسکتا ہے۔

اسی طرح خون کی شدید کمی، حالیہ ٹیٹو یا جسم میں سوراخ کروانے اور بعض متعدی یا سنگین بیماریوں کی صورت میں بھی خون عطیہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر یا بلڈ بینک کی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔

خون دینے سے پہلے کیا کرنا چاہیے؟

خون عطیہ کرنے سے پہلے مناسب مقدار میں پانی پینا اور اچھی نیند لینا ضروری ہے۔ خون دینے سے چند گھنٹے پہلے ہلکی اور غذائیت سے بھرپور غذا کھانی چاہیے جبکہ آئرن سے بھرپور غذاؤں کا استعمال بھی مفید ہوسکتا ہے۔

خالی پیٹ خون عطیہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور خون دینے سے پہلے سگریٹ نوشی سے بھی پرہیز کرنا بہتر ہے۔

خون دینے کے بعد کیا احتیاط کریں؟

خون عطیہ کرنے کے بعد مناسب مقدار میں پانی پینا اور ہلکی غذا یا مشروب استعمال کرنا چاہیے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو اور طبیعت بحال رہے۔

خون دینے کے فوراً بعد بھاری ورزش، وزن اٹھانے اور سگریٹ نوشی سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر خون عطیہ کرنے کے بعد چکر یا کمزوری محسوس ہو تو کچھ دیر آرام کرنا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر طبی عملے سے رجوع کرنا چاہیے۔

خون عطیہ کرنا بلاشبہ انسانیت کی خدمت کا ایک اہم ذریعہ ہے، تاہم خون دینے سے پہلے اپنی صحت، طبی حالت اور متعلقہ بلڈ بینک کی مقررہ شرائط کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔