صبا حمید ایک نجی ٹی وی چینل کے ایک ڈرامے میں فرحان طاہر کی اہلیہ جبکہ اسی چینل کے دوسرے ڈرامے میں ان کی والدہ کے کردار میں نظر آ رہی ہیں۔ دونوں ڈرامے بیک وقت نشر ہونے کے باعث ناظرین اس غیر معمولی کاسٹنگ پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر کئی صارفین کا کہنا ہے کہ ایک ہی اداکار اور اداکارہ کو ایک ہی وقت میں مختلف رشتوں میں دکھانا ناظرین کے لیے الجھن کا باعث بنتا ہے۔
اس معاملے پر معروف اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے بھی اپنے ایک شو میں تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ دونوں ڈراموں کی کاسٹ مضبوط ہے، لیکن صبا حمید کو ایک ڈرامے میں فرحان طاہر کی بیوی اور دوسرے میں ان کی والدہ کے روپ میں دیکھنا قابلِ قبول محسوس نہیں ہوتا۔
عتیقہ اوڈھو کا کہنا تھا کہ اداکار مختلف کردار ضرور نبھا سکتے ہیں، مگر جب دونوں کردار ایک ہی وقت میں نشر ہوں تو ناظرین کے لیے انہیں قبول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صبا حمید آج بھی اتنی باوقار اور اسٹائلش ہیں کہ انہیں دادی یا نانی جیسے کرداروں میں دکھانا غیر فطری محسوس ہوتا ہے۔
دوسری جانب اداکارہ ژالے سرحدی نے اس معاملے کو انڈسٹری میں خواتین اور مرد اداکاروں کے لیے مختلف پیمانوں سے جوڑتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ ہمارے ہاں شاید عمر صرف خواتین کی بڑھتی ہے، جبکہ مرد اداکار ہمیشہ نوجوان کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔
ژالے سرحدی نے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو ایک دن وہ خود بھی ہمایوں سعید کی والدہ کا کردار ادا کرتی نظر آئیں گی۔
تاہم پروگرام کی میزبان جگن کاظم نے صبا حمید کے حق میں مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی اداکار کے ساتھ مختلف نوعیت کے کردار نبھانا ان کی غیر معمولی اداکاری کا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق صبا حمید ہر کردار میں اس قدر جان ڈال دیتی ہیں کہ ناظرین کی توجہ اداکارہ نہیں بلکہ کردار پر مرکوز رہتی ہے۔
ادھر ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں عمر کے مطابق کرداروں کی تقسیم کا مسئلہ طویل عرصے سے زیرِ بحث ہے، جہاں مرد اداکار نسبتاً زیادہ عمر میں بھی رومانوی کردار ادا کرتے رہتے ہیں، جبکہ خواتین اداکاراؤں کو اکثر والدہ یا بڑی عمر کی خواتین کے کرداروں تک محدود کر دیا جاتا ہے۔
صبا حمید کی بیک وقت والدہ اور اہلیہ کے کرداروں میں موجودگی نے اسی بحث کو ایک بار پھر سوشل میڈیا پر زندہ کر دیا ہے، جہاں اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔







