نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) مصطفیٰ مغل نے انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے سامنے آنے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تمام انتخابی مراحل قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل کیے اور ہر مرحلے پر شفافیت کو یقینی بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتوں، خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے دھاندلی کے الزامات عائد کیے گئے، تاہم اب تک ان دعوؤں کے حق میں کوئی قابلِ قبول ثبوت سامنے نہیں آیا، اگر کسی امیدوار یا جماعت کے پاس شواہد موجود ہیں تو وہ انتخابی عذر داری (الیکشن پٹیشن) دائر کرے، کیونکہ صرف الزامات کی بنیاد پر کسی انتخاب کو متنازع قرار نہیں دیا جا سکتا۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ انتخابات کے دوران امن و امان کی صورتحال بعض علاقوں میں چیلنج رہی، اس کے باوجود ووٹرز نے بھرپور انداز میں حقِ رائے دہی استعمال کیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام کو انتخابی عمل پر اعتماد تھا اور انہوں نے جمہوری عمل میں بھرپور شرکت کی۔
جسٹس (ر) مصطفیٰ مغل کے مطابق انہیں دھاندلی سے متعلق مختلف شکایات موصول ہوئیں، جن میں بعض شکایات واٹس ایپ کے ذریعے بھی بھیجی گئیں، تاہم کسی بھی شکایت پر کارروائی کے لیے قانونی طریقہ کار اور قابلِ اعتماد شواہد ضروری ہوتے ہیں، عدالتیں اور الیکشن کمیشن صرف ثبوتوں کی بنیاد پر ہی فیصلے کرتے ہیں، غیر مصدقہ دعووں کی بنیاد پر نہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے مطالبہ کیا تھا کہ انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے لیے پاک فوج اور رینجرز کی خدمات حاصل کی جائیں، جس پر عمل درآمد کیا گیا تاکہ ووٹرز کو پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے اور انتخابی عمل بلا تعطل جاری رہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ مظفرآباد میں چوہدری لطیف اکبر کے حلقے سمیت بعض دیگر حلقوں سے بھی شکایات سامنے آئیں جبکہ میرپور ڈویژن کے چند علاقوں میں بھی انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے گئے، تاہم ان تمام معاملات کا جائزہ قانون کے مطابق لیا جائے گا اور صرف وہی شکایات قابلِ سماعت ہوں گی جن کے ساتھ ٹھوس شواہد موجود ہوں گے۔
انہوں نے انتخابات کے آئندہ مرحلے کے حوالے سے بتایا کہ تیسرے مرحلے کی نوعیت پہلے دو مراحل سے مختلف ہے اور بعض علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت پڑنے پر انتخابات مؤخر کرنے کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔







