پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ 3 ستمبر کو ملک بھر میں مکمل ہڑتال کی جائے گی، جس کے لیے جماعت اسلامی کے کارکنان مارکیٹوں، تاجروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے رابطے کر رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ ملک بھر کی مختلف مارکیٹوں کے تاجر رہنماؤں اور صدور نے ہڑتال کی حمایت کی ہے، جماعت اسلامی عوام کو ان معاشی مسائل سے آگاہ کر رہی ہے جن کے اثرات براہِ راست عام شہریوں، طلبہ، مزدوروں اور کاروباری طبقے پر پڑ رہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں لاکھوں موٹر سائیکلیں اور تقریباً 50 لاکھ گاڑیاں استعمال ہو رہی ہیں، جن کے مالکان کو پیٹرولیم مصنوعات پر مختلف ٹیکسز اور لیویز کی صورت میں اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک طالب علم یا عام شہری جب موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈلواتا ہے اور اس قیمت میں بھاری ٹیکس شامل ہوتا ہے تو یہ عام آدمی کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن جاتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے بجلی کے بلوں میں شامل کیپسٹی پیمنٹس اور فکسڈ چارجز پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا، عوام کو ایسی بجلی کے اخراجات بھی برداشت کرنا پڑ رہے ہیں جو انہوں نے استعمال نہیں کی۔
ان کے مطابق چند آئی پی پیز کو 1700 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئی ہیں، جبکہ عوام پہلے ہی مہنگی بجلی اور بھاری بلوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے حکمران طبقے کے اخراجات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں عام شہریوں اور طلبہ پر ٹیکسز کا بوجھ بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ حکمران طبقے کی مراعات اور اخراجات پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ارب پتی طبقے کے بوجھ کا اثر عام لوگوں، طلبہ اور کم آمدنی والے طبقات پر پڑ رہا ہے، حکومت کو ایسی معاشی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی جن سے عام شہری کی زندگی مزید مشکل ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے عوام میں معاشی مسائل کے حوالے سے شعور بیدار کیا جا رہا ہے اور کارکنان ملک کے مختلف شہروں میں گلی محلوں اور مارکیٹوں تک جا کر لوگوں سے رابطے کر رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے شہریوں اور تاجروں سے اپیل کی کہ 3 ستمبر کی ملک گیر ہڑتال کو کامیاب بنایا جائے اور صرف بڑی مارکیٹوں ہی نہیں بلکہ گلی محلوں کی دکانیں بھی بند رکھی جائیں۔
انہوں نے حکومت کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی نمائندے آکر بات کرنا چاہیں تو جماعت اسلامی بات چیت کے لیے تیار ہے، جماعت اسلامی پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور چاہتی ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کرے جن سے پاکستانی عوام کی زندگی آسان ہو۔
امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ پشاور میں جاری دھرنا اب مزید دھرنوں میں تبدیل ہوگیا ہے، جبکہ حیدرآباد، خیبر پختونخوا اور دیگر شہروں میں بھی احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تاجر برادری کی جانب سے تحریک کو مثبت ردعمل مل رہا ہے اور عوام بھی جماعت اسلامی کے مطالبات کی حمایت کر رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو "معاشی دہشت گردی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ غریب اور متوسط طبقے کو ٹیکسوں کے بوجھ سے نہیں نکالا جا رہا، جبکہ بعض بااثر شعبوں اور مافیاز کو ریلیف دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک میں ملک کی تمام اپوزیشن جماعتوں کو بھی شامل ہونا چاہیے تاکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ آواز بلند کی جاسکے۔
حافظ نعیم الرحمان نے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا کہ بھاری لیویز اور عوام پر عائد اضافی مالی بوجھ ختم کیا جائے، بجلی کے بلوں میں غیر ضروری چارجز پر نظرثانی کی جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ 3 ستمبر کی ہڑتال کے بعد جماعت اسلامی اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی، جبکہ ضرورت پڑنے پر دھرنوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جاسکتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی پرامن جدوجہد جاری رکھے گی اور اس کا بنیادی مقصد حکومت کو عوامی مسائل کے حل اور معاشی پالیسیوں پر نظرثانی کے لیے مجبور کرنا ہے۔







