رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ نے فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے اسپیس ایکس کے فالکن ہیوی راکٹ کے ذریعے پرواز کی۔ لانچ کے تقریباً 30 منٹ بعد دوربین کامیابی سے راکٹ سے الگ ہوگئی اور اپنی مقررہ منزل کی جانب سفر شروع کردیا۔

ناسا کے مطابق رومن دوربین زمین سے تقریباً 10 لاکھ میل دور اپنے مشاہداتی مقام تک پہنچنے کے بعد کائنات کے ایسے حصوں کا مشاہدہ کرے گی جن کے بارے میں سائنس دان اب تک محدود معلومات رکھتے ہیں۔

رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کو خاص طور پر وسیع پیمانے پر کائناتی سروے کے لیے تیار کیا گیا ہے، یہ دوربین ایک ہی وقت میں ہبل اور جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے مقابلے میں تقریباً 100 گنا زیادہ وسیع منظر ریکارڈ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سائنس دانوں کو امید ہے کہ رومن دوربین کی مدد سے اربوں کہکشاؤں کے نقشے تیار کیے جا سکیں گے اور کائنات کی ساخت، ارتقا اور اس میں موجود مختلف اجرامِ فلکی کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوں گی۔

مشن کا ایک اہم مقصد تاریک مادے (Dark Matter) اور تاریک توانائی (Dark Energy) کا مطالعہ بھی ہ، کائنات کا بیشتر حصہ ایسے ہی پراسرار اجزا پر مشتمل سمجھا جاتا ہے، جنہیں براہِ راست دیکھنا ممکن نہیں، تاہم ان کے اثرات کائنات کی ساخت اور پھیلاؤ میں نمایاں ہیں۔

رومن دوربین بلیک ہولز کے مطالعے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ ماہرین اس کے ذریعے کہکشاؤں کے مرکز میں موجود بڑے بلیک ہولز اور ان کے گرد ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

اس کے علاوہ دوربین ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں، یعنی ایکزوپلینٹس، کی تلاش بھی کرے گی۔ ناسا کے مطابق اس مشن کے دوران دسیوں ہزار نئے ایکزوپلینٹس دریافت ہونے کی توقع ہے، جبکہ ممکنہ طور پر یہ تعداد ایک لاکھ تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

ناسا کی منتظم نکی فاکس کے مطابق رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کائنات کو دیکھنے کے انسانی انداز میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہے، اس مشن سے سائنس دانوں کو اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کیا زمین کے علاوہ کائنات میں بھی زندگی موجود ہے؟

یاد رہے کہ رومن دوربین کو زمین اور چاند کے درمیان فاصلے سے تقریباً چار گنا زیادہ دور کام کرنے کے لیے بھیجا جا رہا ہے، تاکہ زمین اور چاند سے آنے والی روشنی اور دیگر خلل اس کے حساس مشاہدات کو کم سے کم متاثر کریں۔

رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کا نام ناسا کی پہلی خاتون چیف ماہرِ فلکیات نینسی گریس رومن کے نام پر رکھا گیا ہے۔ نینسی گریس رومن نے خلائی تحقیق کے فروغ اور ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی منظوری میں اہم کردار ادا کیا تھا، اسی نسبت سے انہیں اکثر ’’ہبل کی ماں‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ناسا کے مطابق رومن مشن کا بنیادی دورانیہ تقریباً پانچ سال ہوگا، تاہم اسے حالات اور کارکردگی کے مطابق تقریباً 10 سال تک جاری رکھنے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔

سائنس دانوں کو توقع ہے کہ رومن دوربین سے حاصل ہونے والا ڈیٹا نہ صرف کائنات کے ماضی اور موجودہ ساخت کو سمجھنے میں مدد دے گا بلکہ مستقبل میں کہکشاؤں، ستاروں، بلیک ہولز، سیاروں اور ممکنہ طور پر زندگی کے وجود سے متعلق تحقیق کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہوگا۔

واضح رہے کہ نزدیک یہ مشن ہبل اور جیمز ویب کے بعد خلائی تحقیق کے میدان میں ایک اور بڑی پیش رفت ہے، جو کائنات کے ان پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے جن کے بارے میں انسان اب تک صرف محدود معلومات رکھتا ہے۔