ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں اور عالمی اداروں کے فیصلوں کا احترام تمام ممالک کی ذمہ داری ہے،سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے عدالت کا فیصلہ واضح ہے اور بھارت کی جانب سے اسے مسترد کرنا بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی پاسداری کے حوالے سے سوالات اٹھاتا ہے۔
طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ بھارت بین الاقوامی فیصلوں کو اپنی سہولت کے مطابق قبول یا مسترد نہیں کرسکتا، عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی بھرپور تائید کرتا ہے اور اسلام آباد نے اسے خوش آئند قرار دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف واضح ہے اور پاکستان عالمی قوانین اور طے شدہ معاہدوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کا دفاع جاری رکھے گا۔
ایران امریکا تنازع، پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے حل اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ پاکستان کی ثالثی یا سفارتی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
طاہر اندرابی کے مطابق جب دونوں فریق جارحیت کی منطق کو سمجھتے ہوئے مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے تو پاکستان مفاہمت کے عمل کے تحت بات چیت آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بشکیک میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جبکہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات کی۔
ان ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال، ایران امریکا کشیدگی اور تنازع کے سفارتی حل کے امکانات سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مکہ معاہدے کی کمیٹی کا اجلاس
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ 31 اگست کو مکہ معاہدے کے تحت قائم کمیٹی کا اجلاس استنبول میں ہوا، جس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔
ان کے مطابق اس تعاون کے لیے سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا، جبکہ پاکستان آئندہ تین سال تک سیکریٹری جنرل کی ذمہ داری سنبھالے گا۔
طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ مکہ معاہدے کا نام تبدیل نہیں کیا گیا بلکہ مختلف زبانوں، جن میں ترکی، عربی اور انگریزی شامل ہیں، میں معاہدے کے نام کے استعمال سے متعلق معاملات زیرِ بحث آئے ہیں۔
افغانستان کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف
افغانستان سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ افغانستان کے لیے چین کے نمائندہ خصوصی نے اسلام آباد کا دورہ کیا اور پاکستان کے مستقل نمائندے برائے افغانستان سفیر محمد صادق سے ملاقات کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین افغانستان سے متعلق معاملات پر رابطے میں ہیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مختلف سطحوں پر مشاورت جاری رہتی ہے۔
افغان ناظم الامور کے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کے حوالے سے طاہر اندرابی نے کہا کہ سفیر اور سفارت کار مختلف جامعات اور اداروں میں روایتی طور پر لیکچرز دیتے ہیں، اس لیے اس خطاب سے کسی خاص پیش رفت یا پالیسی تبدیلی کا تاثر لینا درست نہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور کے این ڈی یو خطاب کو "نان ایشو" قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ افغان سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کیا پوسٹ کیا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام، سفارت کاری اور باہمی مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، جبکہ عالمی معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے مفادات اور حقوق کا دفاع بھی کرتا رہے گا۔







