کوئٹہ میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)، نیشنل پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں صوبے کو درپیش بحران پر مشترکہ لائحہ عمل پیش کیا گیا۔
جے یو آئی بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ آل پارٹیز اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل صرف سیاسی عمل میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی تحلیل کرکے آزاد، شفاف اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں تاکہ عوام کی حقیقی نمائندہ حکومت قائم ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان سے بات چیت کی جائے، کیونکہ اعتماد سازی کے بغیر صوبے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حکومتی اتحاد کے اندر اختلافات اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا۔
مولانا عبدالواسع نے یہ بھی کہا کہ بعض حلقے بلوچستان کے مسائل کا ذمہ دار سرداروں اور نوابوں کو قرار دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ انہی شخصیات کو آج بھی اقتدار میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاستی استحکام کے لیے سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا اور سانحہ زیارت دھرنے کے شرکا کے مطالبات پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔
اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر اصغر اچکزئی نے کہا کہ حکومت امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کوئٹہ کے ریڈ زون کی حفاظت بھی یقینی نہیں بنا سکتی تو پورے صوبے میں امن قائم کرنا مشکل ہوگا۔
نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ انہوں نے وفاقی حکومت کو بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے مختلف تجاویز دی ہیں، جن پر عمل درآمد سے حالات میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں مشترکہ طور پر بلوچستان کے مسائل کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔







