لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح معیشت کو مستحکم کرنا اور عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنا ہے، جب کہ حکومت چاہتی ہے کہ موجودہ صورتحال میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ چار سال قبل ملک میں مہنگائی کی شرح 31 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جو اب کم ہوکر تقریباً 9 فیصد رہ گئی ہے۔ عالمی حالات، خصوصاً ایران جنگ کے اثرات نہ ہوتے تو مہنگائی میں مزید کمی آ سکتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ معاشی اشاریے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی معیشت بحالی کی جانب بڑھ رہی ہے، تاہم ملک ابھی معاشی بحران اور اس کے اثرات سے مکمل طور پر نہیں نکلا۔

احسن اقبال نے کہا کہ چار سال قبل ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا اور اس دوران معیشت کو شدید نقصان پہنچا، جب کہ پالیسی ریٹ بھی ساڑھے 23 فیصد سے کم ہوکر ساڑھے 11 فیصد پر آچکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2016 کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کو عالمی سطح پر ’بی کیٹیگری‘ دی گئی ہے، جو معاشی بہتری کی علامت ہے۔

وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری کے تحت گیا، تاہم پروگرام کے اہداف پورے کرنا حکومت کی مجبوری ہے کیونکہ اس سے نکلنے کی بھی بڑی معاشی لاگت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت عوام پر عائد بوجھ کم سے کم کرنا چاہتی ہے اور جماعت اسلامی کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے لیے قابلِ عمل تجاویز سامنے آئیں تو حکومت ان پر فوری غور کرے گی۔

احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے ماہرین پر مشتمل ٹیم تشکیل دی ہے جب کہ جماعت اسلامی کی جانب سے بھی ماہرین کی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ دونوں ٹیمیں قابلِ عمل تجاویز پر مشاورت کریں گی۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت پیر سے جماعت اسلامی کے ساتھ باقاعدہ بات چیت شروع کرے گی اور امید ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں عوام کے لیے قابلِ عمل ریلیف پیکیج یا تجاویز سامنے آئیں گی۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جماعت اسلامی کے احتجاج کا بنیادی مقصد مہنگائی میں کمی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے، جب کہ وزیراعظم اور حکومت بھی عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومتی وفد کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی انتخابات کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرول کی موجودہ قیمت میں ٹیکسز کا بڑا حصہ شامل ہے اور حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسز اور مارجنز میں مزید کمی کرکے عوام کو ریلیف دے سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹیشن سمیت دیگر اخراجات کم کرنے کی بھی گنجائش موجود ہے، جب کہ پیٹرول کی قیمت میں ٹیکسز کا بوجھ کم کیا جائے تو عوام کو نمایاں ریلیف مل سکتا ہے۔

امیر جماعت اسلامی کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 88 سے 90 ڈالر فی بیرل تک پہنچی ہے، تاہم اگر عالمی قیمتیں دوبارہ کم ہوتی ہیں تو اس کا فائدہ بھی پاکستانی عوام کو منتقل ہونا چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ’ناجائز‘ ٹیکسز ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو آج سے بھی کام شروع کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں مزید کمی کے لیے حکومت کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: جماعت اسلامی سے مذاکرات، حکومتی وفد منصورہ پہنچ گیا

حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت اب تک لیوی کی مد میں تقریباً 8 ہزار ارب روپے جمع کرچکی ہے جب کہ مزید 100 ارب روپے بھی وصول کیے گئے ہیں۔ پیٹرولیم لیوی کا مقصد ریفائنریوں کو بہتر بنانا تھا، تاہم اس کا بوجھ عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے آئی پی پیز کے معاہدوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بجلی پیدا نہ کرنے کے باوجود آئی پی پیز کو ادائیگیاں کی گئیں، جب کہ ری گیسیفکیشن پلانٹس پر بھی کیپسٹی پیمنٹس کا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ جماعت اسلامی کی ماہرین کی ٹیم لیاقت بلوچ کی سربراہی میں کام کرے گی، جس میں فراست شاہ، ضیاء الدین انصاری، نصراللہ رندھاوا اور نوید بیگ شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ موجودہ مہنگائی میں عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے اور حکومت اس حوالے سے عملی اقدامات کرے۔

حافظ نعیم الرحمان کے مطابق حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری رہے گا، تاہم جماعت اسلامی کے دھرنے بھی جاری رہیں گے اور آئندہ حکمت عملی مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کی بنیاد پر طے کی جائے گی۔