اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ نئے صوبے صرف سیاسی اعلان یا کسی حکومتی فیصلے سے نہیں بن سکتے۔ اس کے لیے آئین پاکستان میں مخصوص ترامیم اور پارلیمنٹ کے پیچیدہ آئینی عمل سے گزرنا لازمی ہے۔
نئے صوبے بنانے کے لیے کن آئینی شقوں میں ترمیم ضروری ہوگی؟ آئین پاکستان کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کی صورت میں آئین کے درج ذیل آرٹیکلز میں ترمیم درکار ہوگی۔
سب سے پہلے جس آرٹیکل میں تبدیلی کی ضرورت پڑے گی وہ ہے آرٹیکل( 1 ) یہ آرٹیکل پاکستان کی وفاقی اکائیوں اور ریاستی ڈھانچے کی وضاحت کرتا ہے۔ کسی نئے صوبے کے قیام کی صورت میں وفاقی اکائیوں کی فہرست میں تبدیلی اسی آرٹیکل کے ذریعے کی جائے گی۔
اس کے بعد باری آتی ہے آرٹیکل 51 کی جو قومی اسمبلی میں صوبوں کی نشستوں کی تقسیم سے متعلق ہے۔ نیا صوبہ بننے کی صورت میں قومی اسمبلی میں نشستوں کی نئی تقسیم طے کرنا ہوگی۔
پھر ہے آرٹیکل 59، اس آرٹیکل میں سینیٹ میں صوبوں کی نمائندگی کا طریقہ درج ہے۔ نئے صوبے کے قیام کے بعد سینیٹ کی نمائندگی میں بھی آئینی تبدیلی ضروری ہوگی۔
آرٹیکل 106 یہ صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں سے متعلق ہے۔ اگر کسی موجودہ صوبے کو تقسیم کیا جاتا ہے تو متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کی نئی تقسیم بھی اسی آرٹیکل کے تحت ہوگی۔
آرٹیکل 239 واضؑ رہے کہ یہ سب سے اہم آئینی شق ہے کیونکہ یہی آئین میں ترمیم کا طریقہ کار متعین کرتی ہے۔ نئے صوبے کے قیام کے لیے پیش کی جانے والی آئینی ترمیم پہلے قومی اسمبلی اور پھر سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے منظور ہونا ضروری ہے۔
اگر مجوزہ نیا صوبہ کسی موجودہ صوبے کو تقسیم کرکے بنایا جا رہا ہو تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کو بھی اسی آئینی ترمیم کی دو تہائی اکثریت سے منظوری دینا ہوگی۔ اگر صوبائی اسمبلی اس ترمیم کی منظوری نہ دے تو نئے صوبے کا قیام آئینی طور پر ممکن نہیں ہوگا۔
کیا صرف قرارداد منظور کرانے سے نیا صوبہ بن سکتا ہے؟ اس سوال پر بھی اکثر بحث ہوتی ہے، لیکن آئینی طور پر جواب واضح ہے۔ کسی صوبائی اسمبلی یا پارلیمنٹ میں صرف قرارداد منظور ہونے سے نیا صوبہ وجود میں نہیں آتا۔ قرارداد سیاسی رائے یا مطالبے کا اظہار ہو سکتی ہے مگر اس کی کوئی آئینی حیثیت اس وقت تک نہیں بنتی جب تک مذکورہ آرٹیکلز میں باقاعدہ آئینی ترمیم نہ کی جائے۔
آئینی ترمیم کا اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟ قومی اسمبلی، سینیٹ اور جہاں ضروری ہو متعلقہ صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظوری کے بعد آئینی ترمیم صدرِ مملکت کو بھیجی جاتی ہے۔ صدر کی توثیق کے بعد ہی ترمیم آئین کا حصہ بنتی ہے اور نئے صوبے کے قیام کا قانونی راستہ ہموار ہوتا ہے۔
موجودہ سیاسی صورتحال میں یہ کتنا ممکن ہے؟ عملی طور پر سب سے بڑا چیلنج دو تہائی اکثریت کا حصول ہے۔ موجودہ پارلیمانی صورت حال میں کسی ایک جماعت کے پاس اتنی اکثریت موجود نہیں کہ وہ اکیلے آئینی ترمیم منظور کرا سکے۔
اس کا مطلب ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے حکومت اور اپوزیشن سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع اتفاقِ رائے ناگزیر ہوگا۔ اگر متعلقہ صوبے کی تقسیم کی بات ہو تو وہاں کی صوبائی اسمبلی کی حمایت بھی لازمی ہوگی۔
سیاسی مؤقف کیوں مختلف ہیں؟ پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کے معاملے پر مختلف رائے رکھتی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت کرتی رہی ہے لیکن سندھ کی تقسیم کی مخالف ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنما ماضی میں ہزارہ صوبے کی حمایت کرتے رہے ہیں جبکہ بعض دیگر جماعتیں انتظامی بنیادوں پر مزید صوبوں کے قیام کی حامی ہیں۔ دوسری جانب کچھ سیاسی جماعتیں موجودہ صوبائی حدود برقرار رکھنے پر زور دیتی ہیں۔
آئینِ پاکستان نئے صوبوں کے قیام کا راستہ ضرور فراہم کرتا ہے مگر یہ راستہ سیاسی طور پر آسان نہیں۔ اس کے لیے آئین کے متعدد آرٹیکلز میں ترمیم، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت، متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری اور وسیع قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔
اسی لیے نئے صوبوں کا قیام صرف سیاسی نعروں یا بیانات سے ممکن نہیں ہو گا بلکہ یہ ایک مکمل آئینی، پارلیمانی اور سیاسی عمل ہے جس میں قانون، پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبوں کی رضامندی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔







