وزیراعظم کے انتخاب کے لیے اسمبلی کا اجلاس آج مظفرآباد میں ہوگا، جس کے بعد کامیاب امیدوار ایوانِ صدر میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

حالیہ انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی مسلم لیگ ن نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزد کیا ہے، تاہم ان کی نامزدگی پر پارٹی کے اندر سے بھی تحفظات سامنے آئے ہیں۔

شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کی جانب سے فیصلے پر ناراضی کی اطلاعات ہیں، جب کہ افتخار گیلانی کی اپنی انتخابی نشست ہارنے کے باوجود مخصوص ٹیکنوکریٹ نشست پر اسمبلی میں پہنچنے اور اب وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار بننے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کو اسمبلی میں واضح برتری حاصل ہے اور وزیراعظم کے انتخاب کے لیے درکار ووٹوں کے مقابلے میں ن لیگ کے پاس زیادہ نشستیں موجود ہیں، جس کے باعث افتخار گیلانی کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں لانگ مارچ پر خونریز تصادم، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کیا چاہتی ہے اور تنازع کی اصل وجہ کیا ہے؟

دوسری جانب نئی حکومت کو انتخاب کے فوراً بعد احتجاجی تحریک، امن و امان اور انتظامی مسائل سمیت کئی چیلنجز کا سامنا ہوگا۔

وزیراعظم کے انتخاب کے بعد یہ بھی اہم ہوگا کہ مسلم لیگ ن کے اندر موجود اختلافات کس حد تک برقرار رہتے ہیں اور نئی حکومت آزاد کشمیر میں جاری سیاسی بے چینی اور عوامی احتجاج سے کیسے نمٹتی ہے۔