لندن میں ایک انٹرویو کے دوران محسن نقوی نے کہا کہ برمنگھم میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ سے قبل ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تبدیلیاں کرنا انتہائی ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تنقید سے کبھی نہیں ڈرے اور نہ ہی آئندہ ڈریں گے۔
واضح رہے کہ انگلینڈ نے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دی تھی، جبکہ لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں 194 رنز سے کامیابی حاصل کرکے سیریز اپنے نام کرلی تھی۔ مسلسل ناکامیوں کے بعد پی سی بی نے محمد رضوان، امام الحق اور سلمان علی آغا سمیت 7 کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے ڈراپ کرکے ان کی جگہ 7 نئے کھلاڑی شامل کیے۔
محسن نقوی نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے، تاہم انہوں نے محدود اوورز کی کرکٹ میں ٹیم کی پیشرفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت ون ڈے رینکنگ میں پانچویں جبکہ ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں چھٹے نمبر پر موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ 6 ون ڈے سیریز میں سے 4 میں کامیابی حاصل کی، جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں کامیابی کا تناسب 24 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
پاکستان کرکٹ کے تباہ ہونے کی باتوں کو مسترد کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ تباہ ہوگئی ہے، وہ ماضی کی رینکنگ اٹھا کر دیکھیں۔ جنوبی افریقہ کو نامیبیا اور بھارت کو آئرلینڈ سے شکست ہوئی، تو کیا وہاں کرکٹ ختم ہوگئی؟ ہمارے لیے ہر میچ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے باہر کیے جانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سلمان علی آغا ایک زبردست کھلاڑی ہیں، لیکن وہ موجودہ سیریز میں کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کھلاڑی کو باہر کرنا مقصد نہیں، تاہم جو کارکردگی نہیں دکھائے گا، اس میں تبدیلی ضرور کی جائے گی، کیونکہ ٹیسٹ کرکٹ میں ٹیم کو بہتری کی شدید ضرورت ہے۔
پی سی بی چیئرمین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ کسی کھلاڑی کی تذلیل برداشت نہیں کریں گے اور انہیں اب بھی قومی ٹیم پر اعتماد ہے۔
انتظامی سطح پر بھی پی سی بی نے تبدیلیاں کرتے ہوئے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو عہدوں سے ہٹا کر مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے کو ٹیسٹ ٹیم کی ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔
دوسری جانب سلیکشن کمیٹی کے ارکان عاقب جاوید، مصباح الحق اور اسد شفیق سے ٹیسٹ اسکواڈ میں محمد رضوان اور امام الحق کے نام تجویز کرنے پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔ سابق کپتان مصباح الحق نے قومی سلیکشن کمیٹی سے استعفا بھی دے دیا ہے اور قانونی نوٹس کی مدت پوری ہونے کے بعد وہ باقاعدہ طور پر عہدے سے الگ ہوجائیں گے۔
پاکستانی ٹیم برمنگھم پہنچ چکی ہے، جہاں عبداللہ فاضل، عرفات منہاس اور عمران رندھاوا نے اسکواڈ کو جوائن کرلیا ہے۔ قومی ٹیم 4 ستمبر کو ایجبسٹن میں صبح ساڑھے 9 بجے پریکٹس کرے گی، جبکہ انگلینڈ کے خلاف سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔







