جماعت اسلامی کے مطابق احتجاج نمازِ جمعہ کے بعد شروع ہوگا اور رات آٹھ بجے تک جاری رہے گا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ملک کے 170 اضلاع میں 510 مقامات پر دھرنے اور مظاہرے کیے جائیں گے، جن کے دوران مختلف شاہراہیں بند رہیں گی، تاہم ایمبولنس اور دیگر ایمرجنسی گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی۔
کراچی میں مرکزی ریلی مزارِ قائد سے شروع ہوگی، جہاں شہر کے مختلف علاقوں سے آنے والی ریلیاں جمع ہوں گی۔ جماعت اسلامی سندھ کے مطابق شاہراہ فیصل، شاہراہِ پاکستان، ناگن چورنگی، یو پی موڑ، پاور ہاؤس چورنگی، ڈیفنس ویو، شاہراہِ اورنگی، سہراب گوٹھ، سپر ہائی وے اور نیشنل ہائی وے سمیت مختلف مقامات پر احتجاج ہوگا۔ سندھ کے دیگر 10 اضلاع میں بھی دھرنے اور مظاہرے کیے جائیں گے۔
اسلام آباد میں 26 نمبر چونگی پر دھرنا دیا جائے گا جبکہ راولپنڈی میں لیاقت باغ کے باہر احتجاج ہوگا۔ لاہور میں قرطبہ چوک اور مزنگ چونگی کو مرکزی دھرنا گاہیں قرار دیا گیا ہے، جہاں مختلف علاقوں سے ریلیاں پہنچیں گی۔ پنجاب میں جی ٹی روڈ اور جنوبی پنجاب کی متعدد مرکزی شاہراہوں پر بھی احتجاج کی کال دی گئی ہے، جبکہ ملتان میں چونگی نمبر 6 اور بوسن روڈ اہم احتجاجی مقامات ہوں گے۔
خیبر پختونخوا میں پشاور کے موٹروے ٹول پلازہ اور دیگر مرکزی شاہراہوں پر دھرنے دیے جائیں گے، جبکہ موٹرویز کے مختلف داخلی مقامات پر بھی احتجاج ہوگا۔ سوات میں چکدرہ اور کرک میں انڈس ہائی وے پر بھی احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔
بلوچستان میں کوئٹہ سمیت 18 مختلف مقامات پر احتجاج ہوگا۔ کوئٹہ میں میاں غنڈی روڈ کو مرکزی دھرنا گاہ قرار دیا گیا ہے۔
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز کے خلاف کیا جا رہا ہے۔
پارٹی کے مطابق امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن لاہور میں مرکزی دھرنے سے خطاب کریں گے، جبکہ ان کا خطاب ویڈیو لنک کے ذریعے ملک بھر میں جاری دیگر احتجاجی مقامات پر بھی نشر کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ حافظ نعیم الرحمن رات آٹھ بجے آئندہ کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کریں گے۔







