سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اتحاد میں شامل ممالک کے رابطہ افسران نے رکنیت سے متعلق تمام ضروری مراحل مکمل کرلیے ہیں، جبکہ دیگر متعلقہ افسران کی تعیناتی بھی طے شدہ تعداد کے مطابق مرحلہ وار مکمل کی جائے گی۔
سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اتحاد کی تشکیل سے متعلق اہم انتظامی اور تنظیمی امور نمٹا دیے گئے ہیں۔ ان میں اتحاد کی قیادت کا تعین، تنظیمی ڈھانچے کی منظوری، مرکزی ہیڈکوارٹر کا قیام اور آپریشنل نظام کی منظوری شامل ہے۔
وزارتِ دفاع کے مطابق تمام بنیادی انتظامی مراحل مکمل ہونے کے بعد اتحاد اب عملی آپریشنز، مشترکہ بحری نگرانی اور دفاعی تعاون کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ کثیر ملکی بحری اتحاد کا بنیادی مقصد بحیرۂ احمر اور اس سے منسلک بحری راستوں میں سلامتی کو مزید مضبوط بنانا اور جہاز رانی کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔
اتحاد کے قیام کا ایک اہم مقصد سمندری راستوں پر آزادانہ اور محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا، عالمی تجارت کے تسلسل کا تحفظ اور بین الاقوامی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے خطرے کو کم کرنا بھی ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق رکن ممالک باہمی رابطے، دفاعی تعاون اور مشترکہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کریں گے، جبکہ مختلف ممالک کے متعلقہ افسران کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اتحاد کے ذریعے رکن ممالک کے درمیان بحری دفاع کے شعبے میں تعاون کو منظم انداز میں آگے بڑھانے اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا۔
سعودی عرب کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بحیرۂ احمر ایک اہم عالمی تجارتی گزرگاہ ہونے کے باعث خطے اور عالمی تجارت دونوں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔







