والدین کا کہنا تھا کہ میر رضا علی کی خودکشی کا مؤقف مسلسل پیش کیا جاتا رہا، تاہم وہ گزشتہ 10 روز سے کہہ رہے تھے کہ ان کے بیٹے کو تشدد کے بعد قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میر رضا کے بارے میں غلط باتیں بھی پھیلائی گئیں۔

والدین نے سوال اٹھایا کہ ذمہ دار عہدے پر ہوتے ہوئے آئی جی سندھ نے غلط بیان کیوں دیا؟ اگر میر رضا نے خودکشی کی ہوتی تو پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بات سامنے آ جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں کہ میر رضا کے قتل میں کون سے عناصر ملوث ہیں، تاہم پولیس کو سب معلوم ہے۔

واضح رہے کہ میر رضا کے دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس کے مطابق انہیں پیچھے سے گولی لگی جبکہ جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق میر رضا کی پسلیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں، جبکہ پولیس سرجن کی جانب سے اٹھائے گئے 14 سوالات کے جوابات بھی موصول ہوگئے ہیں۔

نوجوان تاجر میر رضا کی قبر کشائی اہل خانہ کی موجودگی میں کی گئی، جس کے بعد میڈیکل بورڈ نے دوبارہ پوسٹ مارٹم مکمل کیا۔ مجسٹریٹ کی نگرانی میں مختلف نمونے حاصل کیے گئے، جبکہ میر رضا کے والد کا بھی ڈی این اے سیمپل لیا گیا۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق قبر کشائی کے دوران حاصل کیے گئے تمام نمونے محفوظ کر لیے گئے ہیں اور تمام سیمپلز پیر کو جامعہ کراچی کی فرانزک لیبارٹری میں جمع کرائے جائیں گے۔

وکیل جبران ناصر نے دعویٰ کیا کہ پولیس تفتیش کرنے کے بجائے میر رضا کے اہل خانہ کو ہراساں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہل خانہ کو خدشہ ہے کہ کہیں پولیس قاتل تک نہ پہنچ جائے۔

جبران ناصر کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں میر رضا پر تشدد کی تصدیق ہوئی ہے اور بظاہر انہیں قتل سے قبل مکے مارے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ میر رضا کی تھوڑی پر زخم، ماتھے پر چوٹ کا نشان اور کمر پر گولی لگنے کے شواہد ملے ہیں، جبکہ گولی پانچویں پسلی پر بھی اثر انداز ہوئی۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ کراچی پولیس چیف نے اہل خانہ سے کہا تھا کہ وہ یہ بات تسلیم کرلیں کہ میر رضا نے خودکشی کی ہے۔

دوسری جانب میر رضا کیس میں نئی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد خصوصی تحقیقاتی کمیٹی تحلیل کر دی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق نئی پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق نئی تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن عامر فاروقی کریں گے، جبکہ ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر، ایس پی کورنگی اور ایس پی سینٹرل انویسٹی گیشنز بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے سینئر افسر محمد غضنفر کو بھی تحقیقاتی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔