اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ پرامن مزاحمت نے لوگوں کو اپنے گرد جمع کرلیا، ہم نے تیاری کے ساتھ حکومت کو لیوی کے خاتمے کی تجاویز دیں، ہماری تجاویز کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں، یہ جھوٹ بات ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں لیوی لگانا طے کیا گیا ہے. یہ آئی ایم اہف کا 24 واں پروگرام ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کیا آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ بڑے جاگیرداروں کو چھوٹ دے دیں، یہ کہاں ہے کہ بجلی کے بلوں میں فکس چارجز لگائیں، ہم پرعزم ہیں کہ لیوی کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیئے، 3 فیصد شرح سود کم کرنے سے لیوی کی آمدن ویسے ہی مل جائے گی۔ حکومت کا شرح سود کم کرنے سے مہنگائی بڑھنے کا منطق درست نہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کا شرح سود کم کرنے سے مہنگائی بڑھنے کا منطق درست نہیں، قوم سے آسانی سے ہر لیٹر پر لیوی اور دیگر ٹیکسز وصول ہوجاتے ہیں، ان کو اپنی شہہ خرچیاں کم کرنا ہوں گی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 11 ارب کا جہاز تو نیا خریدا، یہ بتائیں کہ پرانے والا جہاز کدھر ہے، معلوم ہوا ہے کہ پرانے والے جہازنے بھی موومنٹ کی ہے، اگر وہ جہاز ٹھیک ہے تو نیا کیوں خریدا، ان حالات میں 6 اعشاریہ 6 ارب روپے کی گاڑیوں کا آرڈر دیا ہے. ابھی جتنی گاڑیاں چل رہی ہیں اس کا حساب تو دیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے مجھے کہا کہ ہم نے بڑا ریلیف دیا ہے، جوریلیف دیا اس سے 5 گنا زیادہ لیوی جمع ہو رہی ہے، وزیر اعظم سے کہا کہ ہم احتجاج اور لانگ مارچ ختم نہیں کریں گے، اگر حکومت ریلیف نہیں دے گی توہم لانگ مارچ اکتوبر میں کریں گے، ہم اپنا پریشر ختم نہیں کرنا چاہتے اور بڑھائیں گے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کے کمرشل بینکوں سے سوال کرتا ہوں. پاکستان کے عوام کی جمع شدہ 38 ہزار ارب روپے بینکوں میں جمع ہیں، جب کرنٹ اکؤنٹ کھولتے ہیں تو سود نہیں لیتے، حکومت جو قرض لیتی اس پر لیوی اور ٹیکسز لگا کرسوددیتی ہے، ہم اپنے پیسوں پر سود نہیں لیتے لیکن بینک ہماری رقم پر حکومت سے سود کیوں لیتے ہیں. پارلیمنٹ کی جماعتیں بتائیں جب بھتی لیوی بجٹ میں لگائی گئی انہوں نے آواز کیوں نہیں اٹھائی، ایک بار پھر کہہ رہا کہ لانگ مارچ ختم نہیں کیا روکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کے پاس آخری موقع، احتجاجی تحریک جاری، اسلام آباد مارچ سے دستبردار نہیں ہوں گے، حافظ نعیم الرحمان

ایک سوال کے جواب میں امیر جماعتِ اسلامی کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ سیاسی قیدیوں کی رہائی کی بات کی ہے۔ آئی پی پیز کے مسئلے پر بھی جب احتجاج کیا تو پرامن رہے، آئی پی پیز کے احتجاج میں ہمارے 15 سولوگ گرفتارہوئے، ہم نے اپنے لوگوں کو پرامن رکھا، ہم عوام کے ساتھ مل کر حکومت کو جھکنے مجبور کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ہمارے مطالبات نہیں مانے گی تو ہمارا لانگ مارچ تیار بیٹھا ہے اور انشاءاللہ ملتان سے شروع کریں گے۔ آپ کچھ دن انتظار کریں۔ میں وہ شخص ہوں جس کی تربیت جماعت اسلامی نے کی اور میں نے اپنی سیٹ سے بھی انکار کر دیا تھا کیونکہ مجھے حکومت یا اسٹیبلشمنٹ سے اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں چاہیے۔