ایف آئی آر نمبر 152/2026 ریاست کی مدعیت میں این سی سی آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر اسلام آباد میں درج کی گئی ہے، جس میں جنید اکبر کی ایک ویڈیو میں مبینہ دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز بیان کا حوالہ دیا گیا ہے۔ مقدمے میں پیکا ایکٹ کی دفعات 9، 10 اور 11 شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق جنید اکبر پر مبینہ طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست مخالف مواد اور بیانیہ پھیلانے، خوف و ہراس پیدا کرنے اور عوامی تحفظ کے لیے خطرہ پیدا کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ جنید اکبر نے ایک ویڈیو میں اسلام آباد کو ’سومنات‘ بنانے کی بات کی، جب کہ ان کے مبینہ بیان میں اسلام آباد پر حملوں کا حوالہ بھی دیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق مذکورہ مواد جنید اکبر کے آفیشل ٹک ٹاک اکاؤنٹ سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود تھا۔ ایف آئی آر میں ان کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ کے تقریباً 3 لاکھ 39 ہزار 500 فالوورز ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کرنے سے قبل جنید اکبر کے مبینہ سوشل میڈیا مواد سے متعلق رپورٹ اور ابتدائی تحقیقات کیں، جس کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔

خیال رہے کہ جنید اکبر نے اس سے قبل 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کے اسلام آباد احتجاج کے حوالے سے مختلف راستوں سے وفاقی دارالحکومت پہنچنے کی بات کی تھی اور ’اسلام آباد کو سومنات‘ بنانے کا بیان دیا تھا۔

بعدازاں انہوں نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے الفاظ کو غلط رنگ دیا گیا اور پی ٹی آئی کارکن پُرامن ہیں۔