محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 144 کا نفاذ 23 ستمبر سے 5 اکتوبر تک ہوگا۔ اس دوران عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پر بھی پابندی ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق غیر قانونی اجتماعات میں لوگوں کو شرکت کے لیے اکسانے یا ترغیب دینے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق پابندی عوامی امن، سکون اور شہریوں کی جان و مال کو لاحق سنگین خطرات کے پیش نظر عائد کی گئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے فوری نوعیت کے سکیورٹی خطرات سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں عوامی اجتماعات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں، جب کہ جلسے، ریلیاں، دھرنے، جلوس اور مظاہرے دہشت گرد حملوں کے لیے ممکنہ آسان ہدف بن سکتے ہیں۔
محکمہ داخلہ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ممکنہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کی درخواست کی، جس کے بعد سیکرٹری داخلہ پنجاب نے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144(6) کے تحت پابندیاں عائد کیں۔
واضح رہے کہ پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، نمازِ جنازہ، تدفین، مساجد اور دیگر عبادت گاہوں پر نہیں ہوگا۔ عدالتیں، سرکاری ادارے اور ضلعی انتظامیہ کی باضابطہ اجازت سے ہونے والی تقریبات بھی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیوٹی پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر بھی ان پابندیوں کا اطلاق نہیں ہوگا۔








