نادرا کے ترجمان کے مطابق شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا پر کمنٹس کے ذریعے ٹریکنگ آئی ڈیز جاری نہیں کی جاتیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں نادرا کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے کمنٹس سیکشن میں اپنی ٹریکنگ آئی ڈی شیئر نہ کریں۔
ترجمان نے شہریوں پر زور دیا کہ نادرا کی خدمات سے متعلق معلومات اور معاونت کے لیے صرف ادارے کے سرکاری ذرائع اور تصدیق شدہ پلیٹ فارمز سے رجوع کیا جائے۔
نادرا کے مطابق ٹریکنگ آئی ڈی سے متعلق معلومات کے لیے شہری 8400 پر ایس ایم ایس بھیج سکتے ہیں، ہیلپ لائن 051-111-786-100 پر رابطہ کرسکتے ہیں یا موبائل فون سے 1777 پر کال کرسکتے ہیں۔ شہری متعلقہ خدمات کے لیے پاک آئی ڈی (PakID) موبائل ایپلی کیشن بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
نادرا نے شہریوں کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے غیر تصدیق شدہ لنکس، اکاؤنٹس اور پیغامات پر بھروسہ نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ذاتی شناخت اور ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
دوسری جانب نادرا نے والدین کو بچے کے ب فارم کے اجرا سے متعلق بھی اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ نادرا کے مطابق دفتر میں یا پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے بچے کے ب فارم کے لیے درخواست دینے سے قبل دونوں والدین کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز کا فعال اور درست ہونا ضروری ہے۔
اتھارٹی کے مطابق دونوں والدین کا ذاتی ڈیٹا بھی نادرا کے ڈیٹا بیس میں درست طور پر رجسٹرڈ ہونا چاہیے، جس میں ذاتی معلومات، والدین کے نام، شریکِ حیات کے نام اور شناختی کارڈ نمبرز کا درست ریکارڈ شامل ہے۔







