نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے مطابق ملزم کی گرفتاری بیرون ملک سے موصول ہونے والی انٹیلی جنس اطلاع کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی، جب کہ کارروائی ڈائریکٹر این سی سی آئی اے پنجاب حسام بن اقبال کی ہدایت پر کی گئی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق گرفتار نوجوان سیکنڈ ایئر کا طالب علم اور اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہے، جب کہ اس کے والد کے ساتھ تعلقات کشیدہ تھے۔ تحقیقات کے مطابق والد سے ناراضی کے باعث نوجوان نے انہیں نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنایا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق نوجوان امریکی کرائم ڈراما سیریز ’بریکنگ بیڈ‘ سے متاثر ہوکر کیمیا میں دلچسپی لینے لگا تھا اور اس نے گھر کے ایک کمرے میں چھوٹی سی لیبارٹری قائم کر رکھی تھی، جہاں وہ مختلف کیمیائی تجربات کرتا تھا۔
تحقیقات کے دوران سامنے آیا کہ نوجوان نے زہریلا مواد تیار کرنے کے لیے آسٹریلیا اور اسلام آباد سے کیمیائی مواد منگوایا تھا۔
حکام کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر تیار کردہ زہریلے مواد کے ذریعے ایک مرتبہ اپنے والد کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی، تاہم اس کوشش کا مطلوبہ نتیجہ نہیں نکلا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق پہلی کوشش ناکام ہونے کے بعد نوجوان نے مصنوعی ذہانت کے نظام سے دوبارہ رہنمائی لینے کی کوشش کی۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم نے اے آئی سے والد کو نقصان پہنچانے اور اس عمل کو چھپانے سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ حکام نے تاہم مبینہ طور پر اے آئی سے حاصل کی گئی ہدایات یا زہریلے مواد کی مخصوص تفصیلات جاری نہیں کیں۔
حکام کے مطابق نوجوان کی آن لائن سرگرمیوں سے متعلق معلومات ایک خودکار نظام کے ذریعے بیرون ملک سے موصول ہوئیں، جس کے بعد این سی سی آئی اے پنجاب نے معاملے کی تحقیقات شروع کیں۔
ڈائریکٹر این سی سی آئی اے پنجاب حسام بن اقبال کی ہدایت پر ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے بہاولپور میں کارروائی کرتے ہوئے نوجوان کو گرفتار کرلیا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق کارروائی کے دوران نوجوان کے گھر میں قائم مبینہ لیبارٹری کا بھی سراغ لگایا گیا، جب کہ کیمیائی مواد اور دیگر شواہد تحویل میں لیے گئے۔
این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ملزم کی ڈیجیٹل سرگرمیوں، کیمیائی مواد کے حصول اور اپنے والد کو مبینہ طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش سمیت دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔







