ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر 6 سے 8 اگست تک سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات ہوگی، جس میں پاک۔سعودی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، دوطرفہ تعاون، سرمایہ کاری، علاقائی اور عالمی امور سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ترجمان نے کہا کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پورا خطہ غیر معمولی کشیدگی سے دوچار ہے۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ کے مسائل کے پرامن اور پائیدار حل پر یقین رکھتا ہے اور اس مقصد کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے عمان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ عمان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے قابل قدر کردار ادا کیا ہے اور پاکستان اس کی کوششوں کی تحسین کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے بھی پاکستان اپنا مثبت کردار جاری رکھے ہوئے ہے۔

ترجمان نے کہا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس ہفتے اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی کی دعوت پر یروشلم سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کی۔ 5 اگست کو ہونے والے اس اجلاس میں عرب لیگ کے رکن ممالک اور منتخب اسلامی ممالک نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال پر غور کیا۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مسئلہ فلسطین کا جامع، منصفانہ اور دیرپا حل ہی مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔ وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت بنانے کی حمایت کا اعادہ کیا۔ اسحاق ڈار نے اس موقع پر اردن، ترکیہ، مصر، الجزائر، ایران اور صومالیہ کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان انسداد دہشتگردی کے حوالے سے خصوصی مذاکرات کا حالیہ دور بھی منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک نے دہشتگردی کے خلاف تعاون، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، سرحدی سلامتی اور دہشت ؤگرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے بتایا کہ 4 اگست کو کینیڈا میں پاکستان اور کینیڈا کے درمیان سینئر حکام کی سطح پر مذاکرات اور مشترکہ تجارتی کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں سیاسی، اقتصادی، تجارتی، سلامتی اور علاقائی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان آبنائے ہرمز سے متعلق طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ اس سے تمام متعلقہ فریق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت مذاکراتی عمل کی طرف واپس آئیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر خلیجی ممالک کی سفارتی کوششیں اور اسلام آباد کی ثالثی کا عمل الگ الگ نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بحری راستوں کی آزادی اور سلامتی کی حمایت کرتا ہے۔

غزہ کی صورتحال پر ترجمان نے کہا کہ صرف حماس کو غیر مسلح کرنا کافی نہیں بلکہ اسرائیل کو بھی غزہ سے انخلا کرنا ہوگا، اس لیے معاہدے پر تمام فریقوں کے عمل درآمد کو دیکھنا ضروری ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات سے متعلق بھارتی بیان کو مسترد کرتے ہوئے طاہر اندرابی نے کہا کہ بھارت کو آزاد کشمیر کے انتخابات پر تبصرہ کرنے کا نہ قانونی حق حاصل ہے اور نہ اخلاقی جواز۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے بیانات اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں اور وہ مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے نائب ترجمان کی جانب سے حالیہ بیان پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کرتا ہے کہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں ہوئی اور اس تنازع کا حتمی حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے ہی ہے۔

ترجمان نے بنگلہ دیش کی صورتحال پر کہا کہ پاکستان اس ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا اور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سے متعلق پیشرفت سے آگاہ ہونے کے باوجود اس پر تبصرہ مناسب نہیں سمجھتا کیونکہ بنگلہ دیش کے عوام اپنے مسائل حل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

افغانستان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ طالبان کے خلاف مزاحمت کی اطلاعات دیکھی ہیں، تاہم یہ افغانستان کا اندرونی معاملہ ہے، اس لیے پاکستان اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان میری ٹائم سیکیورٹی تعاون پر مشاورت جاری ہے، جبکہ دفاعی برآمدات سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو موصول ہوتا ہے۔ ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی یرغمالیوں کی رہائی تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔