جدہ پہنچنے پر وزیراعظم کا استقبال مکہ کے نائب گورنر شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز، سعودی وزیرِ ماحولیات، پانی و زراعت انجینیئر عبدالرحمن بن عبدالمحسن الفضلی، پاکستان کے سفیر احمد فاروق اور دیگر حکام نے کیا۔
وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا خواجہ محمد آصف، عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی سعودی عرب گئے ہیں۔
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ برادرانہ تعلقات، دوطرفہ شراکت داری، خطے کی تازہ صورتحال اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم اپنے دورے کے دوران عمرہ ادا کریں گے، جبکہ مدینہ منورہ میں مسجد نبویؐ میں حاضری دیں گے اور روضۂ رسول ﷺ پر سلام پیش کریں گے۔
وزیراعظم آفس کا کہنا ہے کہ یہ دورہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات، باہمی اعتماد اور قریبی تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔ اعلامیے کے مطابق موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی و بین الاقوامی امور پر ہم آہنگی بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا تھا کہ دورے کے دوران دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ سلطنتِ عمان بھی اس سلسلے میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کر رہی ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات متوقع ہے، جس میں علاقائی صورتحال اور دونوں ممالک کے تعلقات کا جائزہ لیا جائے گا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے حل اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارت کاری ہی واحد پائیدار راستہ ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے اور کسی بھی ایسے معاہدے کی حمایت کرے گا جو تنازع کے پرامن حل کی راہ ہموار کرے۔







