ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی تشکیل کردہ انکوائری کمیٹی نے گزشتہ روز پمز اسپتال کا دورہ کیا، جہاں مختلف شعبوں کا معائنہ کیا گیا اور متعلقہ حکام سے واقعے سے متعلق معلومات حاصل کی گئیں۔
تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے اسپتال کے عملے، فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کے اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے، واقعے کے وقت اسپتال میں موجود عملے اور امدادی اداروں کے اہلکاروں سے حاصل ہونے والی معلومات کو تحقیقات کا حصہ بنایا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے تحقیقاتی کمیٹی سے 48 گھنٹوں کے اندر عبوری رپورٹ طلب کر رکھی ہے، جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد جامع رپورٹ پانچ روز میں وزیراعظم کو پیش کی جائے گی۔
انکوائری رپورٹ میں واقعے کے محرکات، حفاظتی انتظامات، متعلقہ اداروں کی ذمہ داری اور ممکنہ غفلت سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی اپنی رپورٹ میں مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قابلِ عمل سفارشات بھی شامل کرے گی تاکہ اسپتالوں میں مریضوں خصوصاً نومولود بچوں کی حفاظت کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے واقعے سے متاثرہ خاندانوں سے بھی معلومات لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ والدین اور اہلخانہ سے واقعے سے متعلق دستیاب معلومات حاصل کی جائیں گی تاکہ تحقیقات میں عینی اور براہِ راست معلومات کو بھی شامل کیا جاسکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی واقعے سے پہلے اور بعد کے حالات، اسپتال کے حفاظتی انتظامات اور نومولود بچوں کی نگرانی و منتقلی کے طریقہ کار سمیت تمام متعلقہ معاملات کا جائزہ لے گی۔
وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی ریٹائرڈ وفاقی سیکریٹری شاہد خان کو سونپی گئی ہے۔کمیٹی کے دیگر ارکان میں میجر جنرل (ر) ڈاکٹر خورشید اُترا، ڈاکٹر بیرسٹر نبیل احمد اعوان اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد شامل ہیں۔کمیٹی کو واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر حقائق سامنے لانے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی منتقلی کے طریقہ کار کا خصوصی طور پر جائزہ لے گی۔کمیٹی اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ ہائی رسک نوزائیدہ بچوں کو ہنگامی صورتحال میں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے اسپتال میں کیا ایس او پیز موجود ہیں اور واقعے کے دوران ان پر کس حد تک عملدرآمد کیا گیا۔
اس کے علاوہ نومولود بچوں کے انخلا کے دوران اسپتال کے عملے کے کردار، ہنگامی رسپانس، دستیاب سہولیات اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
تحقیقاتی کمیٹی نے پمز اسپتال کے فائر سیفٹی انفراسٹرکچر سے متعلق تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی یہ معلوم کرے گی کہ اسپتال میں آگ سے بچاؤ کے لیے کیا انتظامات موجود تھے، ہنگامی اخراج کے راستے کس حالت میں تھے اور فائر سیفٹی سے متعلق مقررہ ضوابط پر عملدرآمد کس حد تک کیا جارہا تھا۔
اس کے ساتھ ساتھ ہنگامی صورتحال میں فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کے ردعمل کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔
کمیٹی اس امر کا بھی تعین کرے گی کہ واقعے کے وقت دستیاب حفاظتی وسائل کافی تھے یا نہیں اور اگر کسی مرحلے پر انتظامی یا حفاظتی کوتاہی سامنے آئی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے اسپتال کے متعلقہ عملے سے واقعے کے حوالے سے سوالات کیے ہیں، جبکہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کے اہلکاروں سے بھی معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔
تحقیقات میں یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ واقعے کی اطلاع متعلقہ اداروں کو کب ملی، امدادی کارروائی کتنی دیر میں شروع ہوئی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موجود ایس او پیز پر کس انداز میں عمل کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی مختلف اداروں سے حاصل ہونے والے بیانات اور دستاویزی شواہد کا باہمی تقابل کرے گی تاکہ واقعے کی مکمل تصویر سامنے آسکے۔
تحقیقاتی کمیٹی کا بنیادی مقصد واقعے کے اصل حقائق سامنے لانا اور ذمہ داری کا تعین کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر تحقیقات کے دوران کسی افسر، اہلکار یا ادارے کی غفلت، کوتاہی یا حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی سامنے آتی ہے تو رپورٹ میں اس کی نشاندہی کی جائے گی۔
کمیٹی آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اسپتال کے حفاظتی نظام، ہنگامی ردعمل اور نومولود بچوں کی سکیورٹی سے متعلق اقدامات بہتر بنانے کی سفارشات بھی دے گی۔
دریں اثنا سیکریٹری صحت کیپٹن (ر) محمد محمود نے بھی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران سیکریٹری صحت نے وزیراعظم کو پمز اسپتال میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات میں اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم کو تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے کیے گئے اقدامات، اسپتال کے دورے اور مختلف متعلقہ حکام سے حاصل کی جانے والی معلومات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے واقعے کی تحقیقات جلد مکمل کرنے اور حقائق سامنے لانے پر زور دیا ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے عبوری رپورٹ 48 گھنٹوں میں اور مکمل رپورٹ پانچ روز میں وزیراعظم کو پیش کیے جانے کے بعد واقعے کے ذمہ داروں اور اسپتال میں حفاظتی انتظامات سے متعلق مزید اہم پیش رفت سامنے آنے کا امکان ہے۔







