پھر عرب کے تپتے ہوئے صحرا پر ایک ایسی متبرک صبحِ نو کا نزول ہوا جس نے کائنات کا رنگ ہی بدل دیا۔ وہ ہستی تشریف لائی جس کے قدموں کی آہٹ سے زمانے کی ویرانی آباد ہو گئی۔ جن کے وجودِ پاک کو قدرت نے صرف ایک شہر یا قوم کے لیے نہیں، بلکہ ہر سسکتی ہوئی روح کے لیے "رحمت اللعالمین" بنا کر بھیجا۔

شاعر نے اسی آفاقی حقیقت کو کس قدر شائستگی سے قلمبند کیا ہے:

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا

وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

یہ صرف چند لفظوں کی ترتیب نہیں، یہ اس لازوال سچائی کی تصویر ہے جس کی گواہی وقت کا ہر لمحہ دیتا رہا ہے۔ آپ ﷺ کی ذاتِ مبارک اس دنیا کے لیے ایک ایسا سایہ دار درخت بن کر آئی جس کے تلے ہر تھکے ماندے، ہر ٹھکرائے ہوئے اور ہر دکھی انسان کو آ کر قرار مل جاتا تھا۔

آج کی اس تیز رفتار اور نفسا نفسی سے بھری زندگی میں، جہاں انسان چیزوں کو جوڑتے جوڑتے انسانوں سے دور ہوتا جا رہا ہے، ہمیں اسی نبوی شفقت کی سب سے زیادہ حاجت ہے۔ حضورِ پاک ﷺ کی نرم خوئی اور درگزر کوئی ظاہری دکھاوا نہ تھی، وہ تو آپ ﷺ کے پاکیزہ وجود کی خوشبو تھی۔ آپ ﷺ جب کسی سے بات فرماتے تو لہجے میں ایک مادری ممتا کی سی شفیق نرمی ہوتی اور لفظوں میں مٹھاس رچی ہوتی۔ جس معاشرے میں لوگ بات بات پر تلواریں سونت لیتے تھے، وہاں آپ ﷺ نے ایک چھوٹی سی مسکراہٹ اور میٹھے بول کو بھی صدقہ اور بہترین اخلاق قرار دیا۔

قرآنِ پاک کی وہ آیتِ مبارکہ دل میں اترتی محسوس ہوتی ہے جہاں ارشاد ہوا کہ یہ اللہ کی خاص رحمت ہی تو ہے کہ آپ ان کے لیے اس قدر نرم دل واقع ہوئے، اور اگر آپ سخت گیر یا تلخ مزاج ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے—یہ اس بات کا کتنا خوبصورت اظہار ہے کہ دلوں کو فتح کرنے کا راز صرف اور صرف بے لوث نرمی اور شفقت میں چھپا ہوا ہے۔

کبھی تصور کیجیے اس صحنِ مبارک کا، جہاں کوئی بے نوا یا مسکین آتا تو آپ ﷺ نہایت توجہ اور محبت سے اس کی بات سنتے۔ نہ کوئی غرور، نہ کوئی جاہ و جلال کی دیوار۔ آپ کی محفل میں شاہ و گدا کا فرق ایسے مٹ جاتا جیسے سورج نکلنے کے بعد اندھیرا۔ وہاں بیٹھا ہر شخص یہی محسوس کرتا کہ شاید نبی کریم ﷺ کو دنیا میں سب سے زیادہ محبت اسی سے ہے۔ اخلاق کی اسی مٹھاس نے ان دلوں کو پگھلا دیا جو کل تک پتھر کی طرح سخت اور خون کے پیاسے تھے۔

آج کا ہمارا معاشرہ بھی عجیب بے صبری، تلخی اور آپس کے فاصلوں کا شکار ہو چکا ہے۔ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر الجھ پڑتے ہیں، ہماری زبانیں تلخ اور لہجے سخت ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ شاید سختی یا اونچی آواز سے معاملات سدھر جائیں گے، مگر دل کے نگر کبھی زبردستی سے آباد نہیں ہوتے۔ دل تو صرف احترام، محبت اور نرمی سے جیتے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں فتحِ مکہ کا وہ حسین موڑ یاد کیجیے، جب وہ شہر جہاں سے آپ ﷺ کو تنہا اور دکھ سمیٹ کر نکلنا پڑا تھا، جہاں راہوں میں کانٹے بچھائے گئے اور اپنے ہی عزیزوں کے خون سے ہاتھ رنگے گئے—جب اس مکہ پر آپ کی اخلاقی و روحانی فتح مکمل ہو چکی تھی اور ہزاروں جانثار اشارے کے منتظر تھے، تو آپ ﷺ نے بدلے کا سوچا بھی نہیں۔ آپ نے مسکرا کر پوچھا کہ "آج تم مجھ سے کیا توقع رکھتے ہو؟" انہوں نے کہا "آپ ایک شریف اور مہربان بھائی ہیں۔" اور رحمتِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔"

تلوار کی جگہ درگزر کا یہ پھول کھلانا ہی وہ اخلاقی فتح تھی جس نے ایک ہی دن میں صدیوں کی دشمنیوں کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔ یہ تھی وہ رحمت جو اپنے اور پرائے، دوست اور دشمن سب کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی تھی۔

اور یہ رحمت صرف انسانوں تک محدود نہ رہی۔ ایک اونٹ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اس کے مالک کو بلانا اور جانوروں پر حد سے زیادہ بوجھ لادنے سے روکنا، درختوں کو بے وجہ کاٹنے سے منع کرنا—یہ وہ شفیق تعلیمات ہیں جو دنیا کو اس وقت ملیں جب انسانی حقوق کا تصور بھی دور دور تک نہ تھا۔

اس روشن سیرت سے جو شبنم ہمارے دلوں پر گرتی ہے، وہ یہی پیغام دیتی ہے کہ ہم بھی اپنے لہجوں سے تلخیوں کی دھول صاف کریں۔ ہماری زبان سے نکلے ہوئے چند میٹھے بول اگر کسی کے بوجھل دل کا بوجھ ہلکا کر سکیں، ہماری تحریر اگر کسی کے زوال پذیر حوصلے کو سنبھالا دے سکے، اور ہم اپنے آس پاس کے کسی محتاج یا دکھیا کے کام آ سکیں، تو یہی اس سیرتِ طیبہ کی سچی پیروی ہوگی۔

آئیے، آج ہم اپنے رویوں پر ایک سچی نظر ڈالیں۔ اپنے دلوں سے تعصب، کینے اور ناپسندیدگی کے غبار کو دھو ڈالیں۔ معاشرے میں جو تلخی اور بے حسی پھیل رہی ہے، اس کا علاج صرف اسی نبوی نرمی اور درگزر میں ہے۔ وہ رحمت تمام جہانوں کے لیے تھی، ہر اس شخص کے لیے جو سکون اور شائستگی کا متلاشی ہے۔

اگر ہم اس ذاتِ گرامی سے محبت کا دعویٰ رکھتے ہیں، تو پھر ہماری روزمرہ کی گفتگو، ہمارے گھروں کے ماحول اور ہمارے تحریری انداز میں بھی وہی نرمی، بردباری اور درگزر جھلکنی چاہیے۔ کیونکہ اس تڑپتی ہوئی دنیا کو اب خشک بحثوں کی نہیں، بلکہ اس محبت اور نرمی کی ضرورت ہے جو صرف درِ مصطفیٰ ﷺ سے نصیب ہوتی ہے۔

 نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر