اب درہ آدم خیل کے بوستی خیل ہی کو دیکھ لیجیے۔ صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے مقامی مشران کے ہمراہ پودا لگا کر گرینڈ زیتون شجرکاری مہم کا افتتاح کیا ہے۔ مون سون پلانٹیشن ڈرائیو کے تحت بوستی خیل میں 25 ہیکٹر رقبے پر زیتون کے پودے لگائے جا رہے ہیں جبکہ درہ آدم خیل کے مختلف موزوں مقامات پر مجموعی طور پر 22 ہزار 750 زیتون کے پودے لگانے کا منصوبہ ہے۔ تصویر میں سبزہ بھی ہے پودا بھی ہے مشران بھی ہیں اور مستقبل بھی خاصا روشن دکھائی دے رہا ہے۔
لیکن صاحب،، تصویر کے بعد اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ زیتون کا پودا کوئی ایسا بچہ تو ہے نہیں کہ آج سکول میں داخل کیا اور کل میٹرک کا رزلٹ ہاتھ میں آ گیا۔ اسے وقت چاہیے ہے دیکھ بھال چاہیے اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا نظام چاہیے جو کسان کو یہ یقین دلائے کہ چند سال محنت کے بعد اس کی فصل ضائع نہیں ہوگی اور اسے مناسب قیمت بھی ملے گی۔
اب ذرا اس پودے کو بڑے حساب کتاب سے دیکھتے ہیں۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینر شاہد عمران کا کہنا ہے کہ زیتون اور دوسری تیل دار اجناس کی کاشت کا رقبہ بڑھا کر پاکستان سالانہ کم از کم 6 ارب ڈالر کا زرمبادلہ بچا سکتا ہے۔
پاکستان پہلے ہی خوردنی تیل کی درآمد پر بڑی رقم خرچ کرتا ہے۔ اگر ملک میں پیداوار بڑھتی ہے تو درآمدی ضرورت کم ہو سکتی ہے کسان کی آمدنی بڑھ سکتی ہے اور آگے چل کر پاکستانی زیتون کا تیل برآمد بھی کیا جا سکتا ہے۔ یعنی ایک درخت سے معاملہ صرف تیل کی بوتل تک محدود نہیں رہتا اس کے ساتھ کسان، فیکٹری، مزدور، پیکیجنگ، ٹرانسپورٹ اور برآمد کا پورا کاروبار جڑ جاتا ہے۔
خاص بات یہ ہے کہ یہ خیال نیا بھی نہیں ہے۔ گزشتہ سال پاکستان اولیو سمٹ 2.0 سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں زیتون کی کاشت کے وسیع امکانات موجود ہیں اور اگر اس شعبے پر مربوط انداز میں کام کیا جائے تو پاکستان زیتون پیدا کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔
حکومت کی طرف سے نیشنل اولیو پلان 2030، اولیو کلسٹرز، جدید ٹیکنالوجی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی بات بھی ہو چکی ہے۔ یعنی پچھلے سال بھی بات ہوئی، اس سال بھی بات ہو رہی ہے اور اب درہ آدم خیل میں پودے بھی لگ رہے ہیں۔ اچھی بات ہے۔ کم از کم درخت تو زمین میں جا رہا ہے۔
لیکن یہاں ذرا رک کر ایک اور بات سمجھنے کی ضرورت بھی ہے۔ پاکستان میں ہمارا ایک پرانا مسئلہ ہے کہ ہم اکثر منصوبے کے پہلے مرحلے کو ہی کامیابی سمجھ لیتے ہیں۔ پودا لگا دیا،، افتتاح ہو گیا،، تصویر بن گئی۔۔۔ بس کام مکمل۔
حالانکہ زیتون کے معاملے میں اصل کام اس کے بعد ہے۔ کاشتکار کو جدید طریقہ کاشت سکھانا ہوگا۔ مناسب وقت پر کٹائی اور دیکھ بھال کی تربیت دینا ہوگی۔ پھر زیتون سے تیل نکالنے کے لیے جدید آئل ایکسٹریکشن یونٹس چاہییں، معیار جانچنے کے لیے اچھی لیبارٹریاں چاہییں اور ایسا نظام چاہیے جس میں کسان کو اپنی فصل بیچنے کے لیے ادھر ادھر نہ بھٹکنا پڑے۔
پوٹھوہار، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں زیتون کی کاشت میں اضافہ اس لیے بھی امید دلاتا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں اس فصل کے لیے امکانات موجود ہیں۔ زیتون نسبتاً خشک حالات برداشت کر سکتا ہے پانی کے بہتر استعمال میں مدد دے سکتا ہے اور دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
سوچیں،،، آج ایک کسان زمین پر زیتون کا پودا لگا رہا ہے اور چند سال بعد اسی زمین سے پیدا ہونے والی فصل مقامی مارکیٹ میں تیل بن کر پہنچ رہی ہے۔ پھر یہی تیل اچھی پیکیجنگ کے ساتھ بیرون ملک جا رہا ہے اور پاکستان کے نام سے فروخت ہو رہا ہے۔ یہ صرف زراعت نہیں ہے ایک پوری صنعت بن سکتی ہے۔
بھئی 22 ہزار 750 پودے لگانا اچھی خبر ہے، 25 ہیکٹر پر زیتون اگانا بھی اچھی بات ہے اور اگر واقعی اس شعبے سے 6 ارب ڈالر کا زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے تو اس سے اچھی خبر شاید ہی کوئی ہو۔







