لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پمز اسپتال میں پیش آنے والے واقعے نے پوری قوم کو افسردہ کردیا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں اور ان کے لواحقین کی حفاظت حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن بدقسمتی سے اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کے حوالے سے سنگین غفلت سامنے آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پمز اسپتال میں مناسب سکیورٹی انتظامات موجود نہیں تھے۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے کو بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب تربیت فراہم کرنے کا مؤثر نظام دکھائی نہیں دیتا، یہ کہہ کر ذمہ داری سے نہیں بچا جاسکتا کہ اسپتالوں میں اس نوعیت کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سرکاری اسپتال سے بچے کا چوری ہونا انتہائی تشویشناک معاملہ ہے اور اس واقعے کے تمام ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے، صرف چند افسران کو معطل کردینا کافی نہیں، واقعے کے تمام ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہر سانحے کے بعد حکومت کچھ افسران کو معطل کرتی ہے اور معاملہ ختم کردیا جاتا ہے، پھر اگلے واقعے کا انتظار کیا جاتا ہے، حکومت کو وقتی کارروائیوں کے بجائے اداروں میں مستقل بنیادوں پر اصلاحات اور حفاظتی نظام بہتر بنانا ہوگا۔

حافظ نعیم الرحمان نے موجودہ حکومتی نظام کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ملک میں گورننس نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی، اقتدار میں موجود سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی اور سیاسی رسہ کشی میں مصروف ہیں جبکہ عام آدمی کے مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان جماعتوں کی حکومتوں نے عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے ملک میں بدانتظامی اور کرپشن کو فروغ دیا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام کو سیاسی بیانات نہیں بلکہ عملی ریلیف چاہیے۔ غریب شہری کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی فیس ادا کرے، بجلی کا بھاری بل جمع کرائے یا گھر کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرے۔

امیر جماعت اسلامی نے حکومت سے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم کرنے اور عوام کو فوری ریلیف دینے کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں کمی کے باوجود پاکستان میں عوام کو پٹرول کی قیمتوں میں خاطر خواہ ریلیف نہیں دیا جارہا، کیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تقریباً 7 ڈالر کم ہوچکی ہے، اس کے باوجود حکومت کی جانب سے قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے ناقابل قبول ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کو عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنے اخراجات کم کرنے چاہئیں، حکمران اشرافیہ کی مراعات برقرار ہیں جبکہ عام شہری مہنگائی کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو پٹرولیم لیوی ختم کرنا پڑے گی اور عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف دینا ہوگا، ایف بی آر میں کرپشن، بجلی کے مہنگے معاہدوں اور دیگر مالی معاملات نے عوام پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

مزید پڑھیں: لیوی ختم نہ کی تو حکومت ختم ہو جائے گی، پرامن مزاحمت کو کمزوری نہ سمجھیں: حافظ نعیم الرحمان

حافظ نعیم الرحمان نے بجلی کے شعبے میں آئی پی پیز کے معاہدوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے معاملات عوام کے سامنے رکھے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے آواز اٹھائی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنوں کے نتیجے میں بجلی کے نرخوں میں فی یونٹ 10 سے 16 روپے تک کا فائدہ عوام کو ہوا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ان کی جماعت صرف اپنے سیاسی مفادات کے لیے احتجاج نہیں کررہی بلکہ 25 کروڑ عوام کے مسائل کی بات کررہی ہے، جماعت اسلامی کا مطالبہ کسی ایک فرد یا جماعت کے لیے نہیں بلکہ عام پاکستانی کے لیے ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنے جاری رہیں گے اور ان کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، جماعت اسلامی کا دھرنا بارہویں روز میں داخل ہوچکا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ مسلسل احتجاج میں شریک ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو دھرنے دینے کا کوئی شوق نہیں، لیکن جب عوام کے مسائل حل نہ ہوں تو سیاسی مزاحمت ضروری ہوجاتی ہے، پرامن احتجاج کو حکومت جماعت اسلامی کی کمزوری نہ سمجھے۔

حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ ضرورت پڑنے پر لانگ مارچ کا آپشن بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، مختلف شہروں میں احتجاجی سرگرمیوں کو وسعت دی جارہی ہے اور آئندہ دنوں میں مزید اجتماعات اور دھرنے منعقد ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد میں احتجاجی جلسہ عام ہوگا، جبکہ 30 اگست کو راولپنڈی میں جلسہ کیا جائے گا، 31 اگست کو پشاور جبکہ 4 ستمبر کو سوات میں بھی پروگرام ہوں گے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اگر حکومت نے عوامی مطالبات پر سنجیدگی نہ دکھائی تو احتجاج کا دائرہ مزید بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرنے اور پہیہ جام کی جانب جانے کا بھی عندیہ دیا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی پرامن سیاسی مزاحمت کو کمزوری سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے۔ حکومت کو عوامی مطالبات تسلیم کرکے انہیں ریلیف دینا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں بھی نوجوان بڑی تعداد میں دھرنے میں شریک ہوں گے، جبکہ احتجاجی تحریک کو ملک کے مختلف حصوں تک پھیلایا جائے گا۔

حافظ نعیم الرحمان نے تمام اپوزیشن جماعتوں کو بھی جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنوں میں شرکت کی دعوت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کسی ایک سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کے شہریوں کا مسئلہ ہیں۔

مزید پڑھیں: اگر پمز میں طاقتور لوگوں کے بچے ہوتے تو آج حالات ایسے نہ ہوتے، حافظ نعیم الرحمان

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی مسلسل جدوجہد کے ذریعے حکمران طبقے کو عوامی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرے گی، حکومتی وزرا کی جانب سے دھرنوں پر مسلسل بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ احتجاج حکمرانوں تک اپنا اثر پہنچا رہا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے سابق حکومت اور موجودہ سیاسی حالات پر بھی گفتگو کی، بانی پی ٹی آئی کی حکومت اپوزیشن اتحاد کے ذریعے ختم کی گئی تھی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام کب تک سیاسی تماشے دیکھتے رہیں گے۔ ان کے مطابق مختلف سیاسی جماعتیں اقتدار کے حصول اور سیاسی مفادات کے لیے ایک دوسرے سے اختلاف کرتی ہیں، لیکن عوام کے بنیادی مسائل بدستور موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس وقت انتخابی مہم نہیں چلا رہی بلکہ عوامی مسائل کو اجاگر کررہی ہے اور ان مسائل پر قومی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کررہی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے عوامی مسائل پر اپنی جدوجہد کو ملک گیر سطح پر پھیلایا ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے سیاسی طور پر ابھرنے کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو ماضی میں غدار قرار دیا جاتا تھا، انہیں بڑی تعداد میں عوامی حمایت حاصل ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مقصد اس وقت انتخابی سرگرمیوں کے بجائے عوام کے بنیادی مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت شاید یہ سمجھ رہی تھی کہ جماعت اسلامی احتجاج کے لیے آئی ہے اور کچھ عرصے بعد واپس چلی جائے گی، لیکن جماعت اسلامی کے کارکنوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے لیے مستقل مزاجی سے کھڑے رہ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: قوم پر لیوی کا بوجھ اور بھتیجی کے لیے 11 ارب روپے کا جہاز، شہباز شریف صاحب، یہ تو نہیں چلے گا، حافظ نعیم الرحمان

انہوں نے کہا کہ حکومتی وزرا کو اب دھرنوں سے تکلیف محسوس ہونا شروع ہوگئی ہے اور ان کی بیان بازی اس بات کی علامت ہے کہ جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک اپنا اثر پیدا کررہی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ حکومت پٹرولیم لیوی ختم کرے، عوام کو مہنگائی سے ریلیف دے، بجلی کے شعبے میں اصلاحات کرے، آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی کرے اور سرکاری اداروں میں کرپشن و بدانتظامی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی عوامی حقوق کے لیے اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھے گی اور مطالبات کی منظوری تک احتجاجی تحریک کو مختلف شہروں تک وسعت دینے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔