ہارون اختر خان نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ کابینہ سے منظوری کے بعد پالیسی کے نفاذ سے پہلے مزید مقررہ مراحل مکمل کیے جائیں گے۔
ان کے مطابق نئی پالیسی چھ بنیادی نکات پر مشتمل ہے، جن میں سستی گاڑیوں کی فراہمی، برآمدات میں اضافہ، مقامی پیداوار کا فروغ، گاڑیوں کی حفاظت، الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور شفافیت شامل ہیں۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان گزشتہ ایک دہائی کے دوران آٹو انڈسٹری کے لیے مختلف پالیسیاں بناتا رہا ہے، تاہم ملک گاڑیوں کی برآمدات میں مطلوبہ ترقی حاصل نہیں کر سکا۔
انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری وزیرِ اعظم کی ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا اور معاشی خود انحصاری میں اضافہ ہوگا۔
گاڑیوں کی حفاظت سے متعلق بات کرتے ہوئے مشیرِ صنعت و پیداوار نے کہا کہ خصوصاً درآمد شدہ استعمال شدہ گاڑیوں میں حفاظتی معیارات کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق خراب بریکس، ٹائروں کے پھٹنے اور سیٹ بیلٹس سمیت دیگر حفاظتی سہولتوں کی عدم دستیابی حادثات کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے صارفین اور مسافروں کی جان و مال کا تحفظ پالیسی کا اہم حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیل کی عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور ملکی معیشت کی حساسیت کے پیشِ نظر الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
ہارون اختر خان کے مطابق نئی پالیسی میں وزیرِ اعظم کی ہدایت پر یہ شرط شامل کی گئی ہے کہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں بکنگ کے وقت گاڑی کی قیمت کا 20 فیصد سے زیادہ ایڈوانس وصول نہیں کر سکیں گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ نئی پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کے لیے خصوصی مراعات رکھی گئی ہیں، جبکہ مقامی پیداوار اور گاڑیوں کی برآمدات بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عام شہریوں کو سستی اور ماحول دوست سواری فراہم کرنا چاہتی ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ کم آمدنی والے طبقے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ہزار سی سی سے کم انجن والی پیٹرول گاڑیوں کو مجوزہ پالیسی تبدیلیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔







