خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو کا مذہبی اور قوم پرست اتحاد اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا، تاہم ان کی جماعت لیکوڈ پارلیمان میں سب سے بڑی واحد جماعت بن کر ابھری ہے۔

صدر اسحاق ہرزوگ کے ترجمان نے بتایا کہ صدر نے گادی آئزنکوٹ کو صدارتی رہائش گاہ پر مدعو کیا ہے، جہاں اتوار کو انہیں حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ اسرائیل میں صدر کا کردار زیادہ تر علامتی ہوتا ہے اور انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے کسی امیدوار کو نامزد کرنا اسی کا حصہ ہے۔

گادی آئزنکوٹ نے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے سے انکار کیا ہے، حالانکہ ان کی حمایت سے انہیں پارلیمان میں اکثریت مل سکتی تھی۔ تاہم عرب جماعتوں نے نیتن یاہو اور ان کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی پالیسیوں پر اعتراضات کے باعث آئزنکوٹ کو حکومت سازی کے لیے نامزد کرنے کی حمایت کی۔

حکومت سازی کی کوشش

گادی آئزنکوٹ کو حکومت بنانے کے لیے 28 دن دیے جائیں گے، جس میں مزید 14 دن کی توسیع ممکن ہے۔ ان کے سامنے حکومت بنانے کے لیے کئی راستے موجود ہیں، جن میں عرب جماعتوں کی بیرونی حمایت سے اقلیتی حکومت قائم کرنا، الٹرا آرتھوڈوکس مذہبی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنا یا نیتن یاہو کے ساتھ قومی اتحاد کی حکومت بنانا شامل ہیں۔

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ان میں سے کسی بھی راستے پر عمل درآمد آسان دکھائی نہیں دیتا۔ اگر آئزنکوٹ حکومت بنانے میں ناکام رہے تو کسی دوسرے امیدوار کو یہ ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد بھی کوئی حل نہ نکلنے کی صورت میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔ حکومت سازی کے اس پورے عمل کے لیے تقریباً 100 دن کی مہلت ہے۔

120 نشستوں والی اسرائیلی پارلیمان کنیسیٹ میں نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے 27 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ان کے مذہبی اور قوم پرست اتحاد کو مجموعی طور پر 53 نشستیں ملیں، جو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کم ہیں۔

گادی آئزنکوٹ کی جماعت ’یاشار‘ 21 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی، جبکہ ان کے چار یہودی جماعتوں پر مشتمل اتحاد نے 48 نشستیں حاصل کیں۔ اسرائیل کی عرب اقلیت کی نمائندگی کرنے والی دو جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں جیتیں۔

یہودی آبادکاروں کے تشدد پر تنقید

66 سالہ گادی آئزنکوٹ مراکش سے اسرائیل آنے والے یہودی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر وہ وزیرِ اعظم بنتے ہیں تو مزراحی یہودی برادری سے تعلق رکھنے والے اسرائیل کے پہلے وزیرِ اعظم ہوں گے۔

سابق فوجی سربراہ آئزنکوٹ نے 2022 میں سیاست میں قدم رکھا تھا۔ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد انہوں نے مختصر عرصے کے لیے نیتن یاہو کی جنگی کابینہ میں کام کیا، تاہم بعد میں اپوزیشن میں چلے گئے۔

اپوزیشن میں رہتے ہوئے انہوں نے نیتن یاہو کی قیادت اور خصوصاً غزہ میں فوجی کارروائیوں کے طریقۂ کار پر تنقید کی۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران بھی کہا تھا کہ وہ نیتن یاہو کے ساتھ حکومت میں شامل نہیں ہوں گے۔

آئزنکوٹ کی عوامی مقبولیت کی ایک وجہ غزہ جنگ کے دوران ان کے خاندان کا جانی نقصان بھی ہے۔ ان کا ایک بیٹا اور دو بھتیجے جنگ کے دوران ہلاک ہوئے۔

انتخابی مہم میں انہوں نے اپنے فوجی تجربے کو نمایاں کیا اور 2006 میں لبنان جنگ کے دوران حزب اللہ کے خلاف استعمال کی گئی اپنی فوجی حکمتِ عملی کا حوالہ دیا، جسے ’ضاحیہ ڈاکٹرائن‘ کہا جاتا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت حملوں کے جواب میں غیر متناسب فوجی طاقت استعمال کی جاتی ہے۔

آئزنکوٹ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کے تشدد پر بھی تنقید کی ہے، جس میں 2023 کے بعد اضافہ ہوا۔ انہوں نے نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں اتمار بن گویر اور بتسلئیل سموٹریچ کی پالیسیوں کی بھی مخالفت کی ہے۔