چین کے بعد دنیا کے دوسرے بڑے ٹیکسٹائل برآمد کنندہ بنگلہ دیش کی تیار ملبوسات کی صنعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جو ملک کی مجموعی برآمدی آمدنی کا 80 فیصد حصہ فراہم کرتی ہے۔ اس صنعت سے پیکنگ، نقل و حمل اور رسد کے شعبوں میں بھی روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
تاہم مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 10 فیصد حصہ رکھنے والی گارمنٹ صنعت کے مزدوروں کی کم از کم قانونی ماہانہ اجرت 12 ہزار 500 ٹکا (100 امریکی ڈالر) ہے، جو ملبوسات برآمد کرنے والے ممالک میں کم ترین اجرتوں میں سے ایک ہے۔
تین سال قبل اجرت کے تعین کے بعد سے روزمرہ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خصوصاً امریکا اور ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والے ایندھن کے بحران اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے مزدوروں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ اسی وجہ سے مزدور یونینیں ماہانہ اجرت بڑھا کر 30 ہزار ٹکا کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔
احتجاج کا آغاز محدود پیمانے پر ہوا تھا، تاہم اب صورتحال بڑے شہروں کی سڑکیں بند کرنے تک پہنچ چکی ہے۔ اس دوران کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
بنگلہ دیش گارمنٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (بی جی ایم ای اے) کے ڈائریکٹر فیصل صمد نے عرب نیوز کو بتایا کہ مسلسل دوسرے روز بھی ڈھاکہ، غازی پور اور ساور کے مختلف علاقوں میں ملبوسات کی صنعت سے وابستہ کارکن سڑکوں پر نکل آئے، جس کے نتیجے میں تقریباً 700 سے 800 فیکٹریوں میں کام بند ہوگیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اجرتوں میں اضافے سے متعلق کوئی ٹھوس تجویز تیار کرنے میں کچھ وقت لگے گا، تاہم یہ عمل جلد مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ماضی میں ایسے معاملات کے حل میں تقریباً تین ماہ لگ جاتے تھے۔
مزدوروں میں بے چینی اور احتجاج کے بعد حکومت نے اتوار کے روز ان کے مطالبات پر غور کرنے کے لیے چھ رکنی ویج بورڈ تشکیل دے دیا، جس میں مزدور یونینوں اور فیکٹری مالکان کے نمائندے شامل ہیں۔
ڈھاکہ میں سینٹر فار پالیسی ڈائیلاگ کے ممتاز فیلو مستفیض الرحمٰن نے کہا کہ سڑکوں پر ہونے والے احتجاج سے حکام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اب مذاکرات کا عمل شروع ہوگا اور امید ہے کہ باہمی اتفاق رائے اور حکومت کی ثالثی کے ذریعے کسی حل تک پہنچنا ممکن ہوگا۔







