اپنے بیان میں اویس چودھری نے کہا کہ کنٹینرائزڈ کارگو، فلیٹ بیڈ، اوپن باڈی، 10 ویلر اور مزدا سمیت مختلف اقسام کی گاڑیاں پولیس نے پکڑ رکھی ہیں، جن میں بیشتر گاڑیاں لوڈ ہیں اور انہیں مختلف چوک چوراہوں میں کھڑا کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ گاڑیوں کو کرائے پر حاصل کیا گیا ہے یا ٹرانسپورٹرز کو یومیہ 20 ہزار روپے ادا کیے جا رہے ہیں۔
اویس چودھری کا کہنا تھا کہ کسی بھی ٹرانسپورٹر کو تاحال کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا گیا، جب کہ 2022ء میں بھی گاڑیاں پکڑی گئی تھیں تاہم اس وقت بھی ٹرانسپورٹرز کو معاوضہ نہیں ملا تھا۔
صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ لوڈ گاڑیوں کو فوری طور پر ریلیز کیا جائے اور روکی گئی گاڑیوں کے جتنے دن بنتے ہیں، ان کے حساب سے یومیہ 20 ہزار روپے معاوضہ ادا کیا جائے۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ گاڑیوں کے ڈرائیورز کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کھانے پینے اور واش روم کی سہولیات بھی دی جائیں۔
اویس چودھری نے کہا کہ کمرشل گاڑیوں کو احتجاج اور دھرنے روکنے کے لیے استعمال کرنا ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ناانصافی ہے۔ حکومت فوری طور پر گاڑیاں ریلیز کرے اور ٹرانسپورٹرز کو ریلیف فراہم کرے۔







