پنجاب اسمبلی آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ حالیہ قومی صورتحال میں پاکستانی قوم نے جس یکجہتی، حوصلے اور اعتماد کا مظاہرہ کیا، وہ پوری دنیا کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان اپنے دفاع اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب مختلف عالمی حلقوں میں یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی تھی کہ پاکستان اپنا مؤقف عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش نہیں کر پا رہا، تاہم معرکہِ حق کے بعد صورتحال مکمل طور پر بدل گئی اور پاکستان کا بیانیہ دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پاکستان پر پہلگام جیسے واقعات کے بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے، لیکن پاکستان نے ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے نہ صرف ان الزامات کو مسترد کیا بلکہ شفاف تحقیقات کے لیے تیسرے فریق کی پیشکش بھی کی۔

مزید پڑھیں: جس نے ریڈ لائن کراس کرنے کی کوشش کی، اس کا غرور ہماری افواج نے خاک میں ملا دیا، مریم نواز

ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کو چیلنج کرنے کی کوشش کی گئی تو ریاستی اداروں اور قیادت نے فیصلہ کیا کہ اس کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا، اور پاکستان نے عسکری و سفارتی میدان میں اپنی برتری ثابت کر دکھائی۔

ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پوری قوم ان تمام شخصیات، اداروں اور فورسز کی شکر گزار ہے جنہوں نے عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا اور یہ احساس دوبارہ اجاگر کیا کہ پاکستان ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر ملک ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں معرکہِ حق اور بنیان مرصوص میں کردار ادا کرنے والی شخصیات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا، کیونکہ قوم اپنے ہیروز کو کبھی فراموش نہیں کرتی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا پہلا ’تعلیم کارڈ‘ عوام کے لیے ایک مثبت اور ریلیف دینے والا قدم ہے، حافظ نعیم الرحمان

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پنجاب کے عوام نے ہر مشکل گھڑی میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اتحاد کا مظاہرہ کیا، اور یہی قومی یکجہتی پاکستان کی اصل طاقت ہے۔

یاد رہے کہ جدید دور میں اطلاعات تک رسائی انتہائی تیز ہو چکی ہے، اور اب کوئی بھی واقعہ لمحوں میں پوری قوم تک پہنچ جاتا ہے، ایسے میں قومی بیانیے کو مؤثر انداز میں پیش کرنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

محمد احمد خان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں قومی سلامتی، سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد کے موضوعات پر وسیع بحث جاری ہے، اور حکومتی حلقے قومی اتحاد کو مزید مضبوط بنانے پر زور دے رہے ہیں۔