امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران جنگ میں کامیاب ہوچکا ہے اور جنگ کے حوالے سے امریکی حکمت عملی نے مطلوبہ نتائج حاصل کیے ہیں۔ امریکی صدر نے ایران کے معاملے پر اپنے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جو قدم اٹھایا وہ امریکا کے مفاد میں تھا۔

امریکی صدر نے گفتگو کے دوران روس یوکرین جنگ کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یوکرین میں جاری جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں اور جنگوں کو ختم کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے، عالمی سطح پر جاری تنازعات کا حل مذاکرات اور ایسے اقدامات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے جن سے مزید جانی نقصان سے بچا جاسکے۔

مصنوعی ذہانت کے حوالے سے سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر مستقبل میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس انسانیت کے خلاف ہوجاتی ہے تو اسے روکنے کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ موجود ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ اس کے ممکنہ خطرات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر نے ان رپورٹس کو بھی سختی سے مسترد کردیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ سمیت مختلف فوجی کارروائیوں کے باعث امریکی فوج کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر کم ہورہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ایسی خبروں کو مکمل طور پر غلط قرار دیا اور کہا کہ امریکی فوج کے پاس گولہ بارود اور فوجی سازوسامان کی وافر مقدار موجود ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج کے پاس گولہ بارود تقریباً لامحدود مقدار میں موجود ہے اور ملک میں ہتھیاروں کی پیداوار بھی تیز کی جارہی ہے۔

امریکی صدر نے ان رپورٹس پر بھی برہمی کا اظہار کیا جن میں امریکی دفاعی صلاحیتوں اور ہتھیاروں کے ذخائر سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ٹرمپ نے ایسی اطلاعات کو ’غداری‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی خبریں امریکی فوج کی صلاحیتوں کے بارے میں غلط تاثر پیدا کرتی ہیں۔

یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں میں متعدد امریکی میڈیا اداروں اور آزاد تجزیوں میں یہ دعوے سامنے آئے تھے کہ مختلف فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں امریکا کے پاس بعض اہم اور جدید ہتھیاروں کے ذخائر دباؤ میں آئے ہیں۔ ان رپورٹس میں ٹوماہاک کروز میزائل، پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس میزائل اور تھاڈ اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹم سمیت بعض اہم دفاعی سازوسامان کا ذکر کیا گیا تھا۔

رپورٹس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا تھا کہ اگر امریکا کو طویل عرصے تک متعدد محاذوں پر فوجی کارروائیوں میں حصہ لینا پڑا تو ہتھیاروں کے موجودہ ذخائر اور پیداوار کی رفتار اس ضرورت کو کس حد تک پورا کرسکے گی۔ تاہم صدر ٹرمپ نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نہ صرف اپنے دفاعی ذخائر برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ ہتھیاروں کی پیداوار میں بھی اضافہ کررہا ہے۔

ٹرمپ کے تازہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کے معاملے، امریکی فوجی کارروائیوں اور واشنگٹن کی دفاعی صلاحیتوں پر امریکا کے اندر بھی سیاسی اور عسکری سطح پر بحث جاری ہے